اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی کی چوری، غیر مجاز فروخت اور منظور شدہ نظام سے ہٹ کر نجی طور پر بجلی فراہم کرنے کے معاملات میں ملوث افراد کے کردار کی تفصیلی جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ بجلی ادارے یا اس کے اہلکاروں کے علم کے بغیر اس نوعیت کی غیر قانونی سپلائی کا نظام کیسے چل سکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ آبزرویشن ایک ایسے مقدمے میں دی جس میں بجلی کی تار ٹوٹنے کے بعد ایک شخص کو کرنٹ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ چھ صفحات پر مشتمل حکم میں عدالت نے واپڈا اور متعلقہ بجلی کمپنیوں کے موجودہ طریقہ کار کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت بیان کی۔
مقدمہ لارکانہ کے رہائشی علی اصغر کھوکھر کی درخواست سے متعلق تھا، جنہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ بینچ کی جانب سے انور علی کوری کو دی گئی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ واقعہ مارچ 2024 کا ہے، جب درخواست گزار کے بھائی نور حسین کو ایک پی وی سی تار ٹوٹ کر ہائی ٹینشن لائن سے چھونے کے بعد بجلی کا جھٹکا لگا تھا۔ بعد میں رحمت پور تھانے میں انور علی کوری اور بعض واپڈا اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریک ملزمان، جن میں واپڈا اہلکار بھی شامل تھے، ایک مخصوص لائن کے ذریعے دکانوں کو بجلی فراہم کر رہے تھے۔ یہ الزامات تاحال عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں اور عدالت نے واضح کیا کہ مکمل ٹرائل کے بغیر ملزمان کے کردار یا جرم کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کے اندراج میں نو ماہ کی تاخیر اور ملزم سے منسوب کردار سمیت مختلف عوامل کو دیکھتے ہوئے معاملے کو مزید انکوائری کا متقاضی قرار دیا تھا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے ضمانت منسوخی کی درخواست پر مزید اصرار نہ کرنے کا موقف اختیار کیا کیونکہ ٹرائل زیر التوا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے نتیجتاً قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے ضمانت کے حکم میں مداخلت کی ضرورت نہیں، تاہم غیر مجاز بجلی سپلائی کے وسیع تر پہلو پر تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے اپنے حکم کی نقل واپڈا چیئرمین کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ ادارہ اس نوعیت کے معاملات اور متعلقہ اہلکاروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لے سکے۔
