اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی ہے کہ چاروں صوبوں اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی ایک ہفتے کے اندر تیار کی جائے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی، جہاں حالیہ کیسز، ویکسینیشن مہمات اور زیادہ خطرے والے علاقوں تک رسائی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر ضلع سے ایک نیا کیس سامنے آنے کے بعد 2026 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے۔ ان میں سات کیس خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے: خیبر اور بنوں میں تین، تین جبکہ شمالی وزیرستان میں ایک کیس سامنے آیا۔ سندھ میں کراچی شرقی اور سجاول سے ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق خیبر ضلع کے تینوں کیس افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس سے منسلک ہیں۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت، وزیر مملکت، وفاقی سیکرٹری صحت اور پولیو پروگرام کے ارکان کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کرکے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی۔ انہوں نے خاص طور پر پولیو سے متاثرہ اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی کوریج بہتر بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں سرحد پار نقل و حرکت کو وائرس کے پھیلاؤ کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ پنجاب میں فروری 2025 کے بعد کوئی نیا پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ بلوچستان میں 2025 اور 2026 کے دوران کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی پولیو سے پاک قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویکسینیشن ٹیموں کی بلا تعطل رسائی اور سکیورٹی حکومت کی ترجیح رہے گی۔ نئی حکمت عملی کا اصل امتحان ان علاقوں میں مسلسل ویکسینیشن اور نگرانی کو مضبوط بنانا ہوگا جہاں سکیورٹی، نقل و حرکت اور ویکسین سے محرومی کے مسائل برقرار ہیں۔
