پشاور: خیبر پختونخوا میں ادویات کے معیار کی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے پانچ جدید موبائل ڈرگ اسکریننگ لیبارٹریاں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ لیبارٹری وینز اگلے ہفتے باضابطہ طور پر شروع کی جائیں گی اور انہیں صوبے کے مختلف ڈویژنز میں تعینات کیا جائے گا تاکہ ڈرگ انسپکٹرز مارکیٹ اور دیگر مقامات پر ادویات کی ابتدائی جانچ موقع پر کر سکیں۔
گورنر کی مشیر برائے صحت و آبادی نگار جوہر خان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کے دورے کے دوران نئی وینز اور ان میں نصب آلات کا جائزہ لیا۔ حکام نے انہیں ادویات کے معیار کی نگرانی، ریگولیٹری ذمہ داریوں اور محفوظ ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔ پانچوں موبائل لیبارٹریوں کا باضابطہ افتتاح گورنر ہاؤس میں منگل کو کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
حکام کے مطابق وینز میں فوئریئر ٹرانسفارم انفرا ریڈ اسپیکٹروسکوپی، جسے ایف ٹی آئی آر کہا جاتا ہے، اور رامن ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے۔ ان آلات کے ذریعے ادویات کی کیمیائی ساخت، اجزا اور مقررہ طاقت کے معیار سے مطابقت کی ابتدائی اسکریننگ کی جا سکے گی۔ اس سے مشتبہ نمونے کی فوری شناخت میں مدد مل سکتی ہے، تاہم موقع پر ہونے والی اسکریننگ کو حتمی لیبارٹری تجزیے کا متبادل قرار نہیں دیا گیا۔
اگر ابتدائی جانچ میں کوئی دوا مشتبہ یا غیر معیاری پائی گئی تو ڈرگ انسپکٹر اس کا نمونہ حاصل کر کے پشاور کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھیجیں گے، جہاں تفصیلی تجزیے کے بعد مزید قانونی یا انتظامی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس طریقہ کار سے ابتدائی نگرانی کو بازار کے قریب لانے اور مشتبہ ادویات کے خلاف ردعمل کا وقت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جعلی اور غیر معیاری ادویات کا مسئلہ صحت عامہ کے لیے اہم خطرہ ہے کیونکہ ناقص دوا علاج میں ناکامی یا دیگر طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ موبائل لیبارٹریوں کا آغاز نگرانی کی صلاحیت بڑھانے کا انتظامی قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار باقاعدہ فیلڈ تعیناتی، درست نمونہ گیری، مرکزی لیبارٹری میں تصدیقی ٹیسٹ اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر مؤثر ریگولیٹری کارروائی پر ہوگا۔

