گلگت: گلگت بلتستان الیکشن ٹریبونل نے جی بی اے-16 دیامر دوم کے انتخابی تنازع میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عطا اللہ شاہ کی رکنیت معطل کر دی ہے اور حلقے کے تین پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔ ڈان کے مطابق ٹریبونل کے جج مشتاق محمد نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی کہ 6 نومبر سے 12 دن کے اندر متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔
یہ حلقہ جون 2026 کے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے بعد سے قانونی تنازع کا شکار ہے۔ ابتدائی طور پر الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار امام ملک کو کامیاب قرار دیا تھا، جو بعد میں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار عطا اللہ شاہ نے نتیجے کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے پوسٹل بیلٹس شمار کیے بغیر فارم 49 جاری کیا تھا۔
ستمبر میں ٹریبونل نے امام ملک کی رکنیت معطل کرکے ریٹرننگ افسر کو پوسٹل بیلٹس کی تصدیق اور گنتی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ بعد میں گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ مجموعی نتیجے کے مطابق عطا اللہ شاہ نے 6,618 ووٹ حاصل کیے اور امام ملک کو صرف 13 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اس تبدیلی کے بعد عطا اللہ شاہ کو کامیاب امیدوار قرار دیا گیا تھا۔
امام ملک نے ٹریبونل کے پہلے فیصلے کے خلاف گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ سے رجوع کیا، تاہم 19 ستمبر کو عدالت نے ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس مرحلے پر عطا اللہ شاہ کو کامیاب قرار دینے والے عمل کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد امام ملک نے تین مخصوص پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کی درخواست دائر کی۔
تازہ فیصلے میں الیکشن ٹریبونل نے یہ درخواست منظور کرلی، عطا اللہ شاہ کی اسمبلی رکنیت معطل کی اور تین پولنگ اسٹیشنوں پر نئی ووٹنگ کا حکم دیا۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ حلقے کا حتمی سیاسی نتیجہ دوبارہ پولنگ اور اس کے بعد جاری ہونے والے مجموعی نتیجے سے طے ہوگا۔
انتخابی تنازع میں مختلف عدالتی اور انتظامی مراحل کے باعث دونوں امیدوار مختلف اوقات میں کامیاب قرار پاتے رہے ہیں۔ موجودہ حکم کسی امیدوار کے خلاف فوجداری یا بدعنوانی کا فیصلہ نہیں بلکہ انتخابی نتیجے سے متعلق قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔ دوبارہ پولنگ کے بعد الیکشن کمیشن کو نئے ووٹ شامل کرکے حتمی نتیجہ مرتب کرنا ہوگا، جس سے جی بی اے-16 دیامر دوم کی نمائندگی کا فیصلہ ہوگا۔

