اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اسلام آباد کے تعلیمی نظام کی تنظیم نو کے لیے جامع تجاویز تیار کرنے اور مجوزہ خودمختار ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی خاطر قانون سازی اور منتقلی کا روڈمیپ 60 روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات آئی سی ٹی ایجوکیشن ریفارمز کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئیں، جس میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حکمرانی، معیار اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد کے تعلیمی نظام کے لیے تیز رفتار اور قابل عمل اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ احسن اقبال نے آئی سی ٹی کے لیے ایک خودمختار تعلیمی اتھارٹی کے تصور کی حمایت کی، جس میں بورڈ آف گورنرز کی اکثریت آزاد ارکان پر مشتمل ہو اور چیف ایگزیکٹو افسر کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے۔ مجوزہ ادارے کے اختیارات، ذمہ داریاں اور قواعد واضح کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضروری قانون سازی اور عبوری انتظامات کا منصوبہ 60 دن میں تیار کیا جائے اور اس دوران وفاقی نظامت تعلیمات کی موجودہ سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی ساخت صرف انتظامی تبدیلی تک محدود نہ رہے بلکہ نگرانی کے نتائج کو اصلاحی کارروائی اور جواب دہی سے براہ راست منسلک کیا جائے۔
احسن اقبال نے سرکاری تعلیمی اخراجات اور نتائج کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل کے مقابلے میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی نظامت تعلیمات کے اخراجاتی حجم کا تقریباً 77 فیصد ملازمین سے متعلق اخراجات پر مشتمل ہے، جس کے باعث ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال کو اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
اجلاس میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مجوزہ 1,100 اساتذہ کی بھرتی کے عمل پر بھی نظرثانی کی بات کی گئی۔ وزیر نے ہدایت کی کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتی کے ماڈل کا جائزہ لیا جائے اور ماضی کے صوبائی تجربات سے سبق حاصل کیا جائے۔ تاہم کسی موجودہ بھرتی عمل کی منسوخی یا نئے ماڈل کے حتمی نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا؛ معاملہ جائزے اور تجویز کی سطح پر ہے۔
مجوزہ اصلاحات کے اگلے مرحلے میں قانون سازی، ادارہ جاتی اختیارات کی تقسیم، وفاقی نظامت تعلیمات سے ممکنہ منتقلی اور اساتذہ و اسکولوں کے لیے جواب دہی کے طریقہ کار کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہوں گی۔ حکومت نے فی الحال 60 روزہ روڈمیپ کی تیاری کا ہدف دیا ہے، جبکہ حتمی ڈھانچہ متعلقہ منظوریوں اور قانونی عمل کے بعد طے ہوگا۔

