اسلام آباد میں 10 ستمبر 2026 کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی گروپ کے حملوں کے بعد مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کے کسی فوری فوجی ردعمل پر اس وقت بات چیت نہیں ہو رہی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں یہ موقف بیان کیا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی عرب کے بعض شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے مشترکہ دفاعی انتظام کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے لیے اہم دفاعی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ترجمان کے مطابق فوری فوجی اقدام کے بارے میں کوئی مشاورت زیر غور نہیں تھی۔
پاکستان نے حملوں کی مذمت کی ہے اور اس کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران تک سعودی تشویش بھی پہنچائی اور تہران سے اپنے یمنی اتحادیوں کو قابو میں رکھنے کی اپیل سے متعلق سفارتی پیغام رسانی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایران حوثیوں پر براہ راست کنٹرول کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، اس لیے اس معاملے میں مختلف فریقوں کے مؤقف کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ دفاعی انتظام کے دائرے میں کسی فوجی ردعمل پر فوری فیصلہ زیر بحث نہیں۔ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسلام آباد فی الحال سفارتی اور سیاسی سطح پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں پاکستان کے ممکنہ اقدامات کا انحصار خطے کی صورتحال، معاہدے کی تشریح اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے سفارتی توازن کا بھی امتحان ہے، کیونکہ اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی روابط بھی اہم ہیں۔ اسی لیے سرکاری موقف میں فوری عسکری اقدام کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری پر زور نمایاں ہے۔ موجودہ طور پر تصدیق شدہ بات یہی ہے کہ 10 ستمبر کی بریفنگ تک کسی فوجی ردعمل پر باضابطہ بحث جاری نہیں تھی؛ اس سے آگے کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں کوئی حتمی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔




