اسلام آباد: پاکستان کی جوہری بجلی کی پیداوار 2025 میں 3.7 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 22.5 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی، جبکہ اسی عرصے میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار پہلی مرتبہ جوہری پیداوار سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ ڈان کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ (WNISR) 2026 میں دیے گئے ہیں، جس میں جولائی 2026 تک دستیاب ڈیٹا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نیٹ جوہری بجلی پیداوار 2024 کے 21.7 ٹیراواٹ آور سے بڑھ کر 2025 میں 22.5 ٹیراواٹ آور ہوگئی۔ دوسری جانب شمسی توانائی سے پیداوار 36.3 ٹیراواٹ آور ریکارڈ کی گئی، اور رپورٹ نے اس شمسی اعداد و شمار کو بھی ممکنہ طور پر کم تخمینہ قرار دیا کیونکہ ملک میں بڑی تعداد میں نجی اور غیر رجسٹرڈ سولر سسٹمز خود استعمال کے لیے بجلی پیدا کر رہے ہیں جو عوامی گرڈ کے اعداد و شمار میں مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔
پاکستان اس وقت چھ فعال جوہری ری ایکٹر چلا رہا ہے جن کی مجموعی آپریٹنگ صلاحیت 3,262 میگاواٹ بتائی گئی ہے۔ ان میں کراچی کے قریب K-2 اور K-3 ہولونگ ون ری ایکٹر اور چشمہ کے چار 300 میگاواٹ ری ایکٹر شامل ہیں۔ چشمہ میں ایک اور تقریباً 1,000 میگاواٹ ہولونگ ون ری ایکٹر C-5 زیر تعمیر ہے، جس کی تکمیل 2030 تک متوقع بتائی گئی ہے۔
رپورٹ نے پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کا حوالہ دیتے ہوئے جوہری بجلی کی لاگت میں قرضوں کی ادائیگی کے حصے کی بھی نشاندہی کی۔ یہ قرض بالخصوص K-2 اور K-3 جیسے نسبتاً نئے منصوبوں سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق قرض کی ادائیگی کی مدت ری ایکٹرز کی اندازاً 60 سالہ معاشی عمر کے مقابلے میں محدود ہے، تاہم موجودہ بجلی کی قیمتوں کے تناظر میں مالی لاگت توانائی پالیسی کا اہم عنصر بنی ہوئی ہے۔
شمسی شعبے میں پاکستان کی توسیع زیادہ تیز رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2017 کے آغاز سے 2026 کے وسط تک پاکستان نے چین سے مجموعی طور پر 58 گیگاواٹ سے زیادہ سولر پینلز درآمد کیے، جن میں سے تقریباً 40 گیگاواٹ 2024 سے 2026 کے وسط کے ڈھائی سال میں آئے۔ اس تیز رفتار درآمد اور نجی تنصیب نے بجلی کے استعمال کے روایتی گرڈ ڈیٹا کو بھی متاثر کیا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا توانائی نظام بیک وقت جوہری پیداوار کے ریکارڈ اور غیر معمولی شمسی توسیع کا تجربہ کر رہا ہے۔ تاہم پیداوار میں اضافہ بذات خود صارفین کے لیے سستی بجلی کی ضمانت نہیں؛ مجموعی نرخوں پر قرض، گرڈ اخراجات، معاہداتی ادائیگیاں اور دیگر مالی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
