اسلام آباد: پاکستان میں اکتوبر 2026 کے دوران صارف قیمت اشاریے، سی پی آئی، سے ناپی جانے والی سالانہ مہنگائی 4.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بزنس ریکارڈر نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مہنگائی کی تازہ شرح ستمبر کے مقابلے میں قیمتوں کے عمومی رجحان میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
صارف قیمت اشاریہ خوراک، رہائش، توانائی، ٹرانسپورٹ، لباس، صحت، تعلیم اور دیگر روزمرہ اشیا و خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کو ایک مجموعی پیمانے پر ظاہر کرتا ہے۔ سالانہ شرح کا مطلب اکتوبر 2026 کی قیمتوں کا اکتوبر 2025 سے موازنہ ہے، جبکہ ماہانہ شرح اکتوبر کو ستمبر 2026 سے تقابل کرتی ہے۔ اسی لیے سالانہ اور ماہانہ اعداد کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
تازہ اعداد و شمار پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور گھرانوں کے لیے اہم ہیں کیونکہ مہنگائی کی رفتار حقیقی آمدنی، خریداری کی قوت، پیداواری لاگت اور شرح سود سے متعلق توقعات پر اثر ڈالتی ہے۔ تاہم کسی ایک ماہ کی ریڈنگ سے مستقبل کی مانیٹری پالیسی یا قیمتوں کے رجحان کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹیٹ بینک شرح سود کے فیصلوں میں مہنگائی کے ساتھ معاشی نمو، مالیاتی حالات، بیرونی کھاتے اور مستقبل کے خطرات سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیتا ہے۔
قومی سطح کی اوسط شرح کے اندر مختلف اشیا اور علاقوں میں قیمتوں کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ شہری اور دیہی صارفین کے اخراجات کی ساخت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے مجموعی سی پی آئی گھرانوں کے انفرادی تجربے سے مختلف محسوس ہو سکتا ہے۔ خوراک اور توانائی جیسی ضروری اشیا میں تیز تبدیلی کم آمدنی والے گھرانوں پر نسبتاً زیادہ اثر ڈال سکتی ہے، خواہ مجموعی مہنگائی معتدل سطح پر ہو۔
اکتوبر کے اعداد کے بعد توجہ آئندہ مہینوں میں خوراک، ایندھن، بجلی و گیس کی قیمتوں، روپے کی قدر اور عالمی اجناس کی منڈیوں پر رہے گی۔ اگر ان شعبوں میں بڑے جھٹکے نہ آئے تو مہنگائی کی سمت نسبتاً مستحکم رہ سکتی ہے، لیکن درآمدی قیمتوں یا انتظامی نرخوں میں تبدیلی دوبارہ دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ سرکاری اعداد کا اگلا سلسلہ یہ واضح کرے گا کہ اکتوبر کی 4.7 فیصد سالانہ شرح ایک عارضی سطح تھی یا قیمتوں کے وسیع تر رجحان کا حصہ۔

