کراچی: پاکستان کے قابل بازیافت تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر جون 2026 تک بڑھ کر اندازاً 3.72 ارب بیرل آئل ایکویویلنٹ ہو گئے ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی تحقیق، جو پاکستان پیٹرولیم انفارمیشن سروس کے اعداد پر مبنی ہے، کے مطابق نئی دریافتوں اور بعض فیلڈز کے ذخائر میں اپ گریڈ نے پرانے فیلڈز میں قدرتی کمی کے اثرات سے زیادہ اضافہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق خام تیل کے قابل بازیافت ذخائر ایک سال میں 15 فیصد بڑھ کر 276 ملین بیرل ہو گئے، جبکہ جون 2025 میں یہ 240 ملین بیرل تھے۔ قدرتی گیس کے ذخائر 9 فیصد اضافے سے 20,664 ارب مکعب فٹ تک پہنچے، جو ایک سال قبل 18,981 ارب مکعب فٹ تھے۔ اس بہتری کے نتیجے میں ملک کے مجموعی ہائیڈروکاربن ذخائر کی تخمینی مدت تقریباً 19 سال بتائی گئی، جبکہ جون 2024 اور جون 2023 میں یہ تقریباً 15 سال تھی۔

تیل کے ذخائر میں سب سے نمایاں اضافہ بارگزی فیلڈ سے رپورٹ ہوا، جہاں ذخائر دسمبر 2025 کے 21.01 ملین بیرل سے بڑھ کر 49.09 ملین بیرل بتائے گئے۔ مردان خیل، مامی خیل ساؤتھ، مرامزئی اور سپن وام نے بھی اضافے میں حصہ ڈالا۔ دوسری طرف نشپا، آدھی، پاساکھی/پاساکھی نارتھ ایسٹ، مکوری ایسٹ، کنڑ اور سونو جیسے پختہ فیلڈز میں کمی رپورٹ ہوئی۔

گیس کے ذخائر میں مری غازی نمایاں رہا، جہاں ذخائر 74 فیصد بڑھ کر 1,723 ارب مکعب فٹ ہوئے۔ سپن وام کے ذخائر پانچ گنا سے زیادہ بڑھ کر 489 ارب مکعب فٹ بتائے گئے۔ بارگزی اور سوہو کی شمولیت نے بھی سوئی، کندھ کوٹ، نشپا، اوچ اور قادرپور میں کمی کے اثرات کو جزوی طور پر متوازن کیا۔

نئی دریافتوں سپن وام، بارگزی، بترسم ایسٹ، چاکر اور فقیر نے مجموعی طور پر 53.52 ملین بیرل تیل اور 772.97 ارب مکعب فٹ گیس قومی ذخائر میں شامل کی۔ بڑی فہرست شدہ کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل کے تیل ذخائر 16 فیصد بڑھ کر 152 ملین بیرل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے 58 فیصد بڑھ کر 33 ملین بیرل ہوئے۔ مری انرجیز کے تیل ذخائر 5 فیصد بڑھے جبکہ پاکستان آئل فیلڈز کے 5 فیصد کم ہوئے۔

گیس کے معاملے میں رجحان یکساں نہیں رہا۔ مری انرجیز کے گیس ذخائر 15 فیصد بڑھ کر 6,353 ارب مکعب فٹ ہوئے، جبکہ او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور پی او ایل کے ذخائر میں کمی رپورٹ ہوئی۔ عارف حبیب لمیٹڈ نے موجودہ پیداوار اور ذخائر کی بنیاد پر مری کے لیے تقریباً 21 سال، او جی ڈی سی ایل کے لیے 19 سال اور پی پی ایل و پی او ایل کے لیے 10، 10 سال کی باقی ذخیرہ مدت کا تخمینہ دیا ہے۔ یہ اعداد تخمینے ہیں اور مستقبل کی دریافتوں، پیداوار اور ریزرو نظرثانی سے بدل سکتے ہیں۔