گوادر: پاکستان اور عمان نے گوادر اور صحار بندرگاہوں کے درمیان سسٹر پورٹ انتظام قائم کرنے کی سمت پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد دونوں بندرگاہوں کے درمیان براہ راست بحری رابطہ پیدا کرنا اور علاقائی تجارت کے لیے نئے راستے کھولنا ہے۔ مجوزہ تعاون کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بحری دروازے گوادر کو خلیج اور وسط ایشیا کی منڈیوں سے زیادہ مؤثر طور پر جوڑنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

گوادر بحیرہ عرب کے کنارے پاکستان کی اہم گہرے پانی کی بندرگاہ ہے، جبکہ صحار عمان کی بڑی صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ دونوں مقامات کے درمیان سسٹر پورٹ تعلق قائم ہونے کی صورت میں بندرگاہی انتظام، لاجسٹکس، شپنگ رابطوں اور تجارتی سہولت کاری میں ادارہ جاتی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام اس رابطے کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

مجوزہ براہ راست بحری راستے کا ایک مقصد پاکستانی بندرگاہ کے ذریعے آنے اور جانے والے سامان کو عمان کے لاجسٹک نیٹ ورک سے جوڑنا ہے۔ عمان جغرافیائی طور پر خلیج، بحیرہ عرب اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے، جبکہ گوادر کو سی پیک کے تحت پاکستان کے زمینی رابطوں سے منسلک کرنے کی حکمت عملی طویل عرصے سے زیر عمل ہے۔ اس تناظر میں صحار کے ساتھ تعاون کو سمندری اور زمینی راہداریوں کے امتزاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سسٹر پورٹ معاہدے عام طور پر بندرگاہی اداروں کے درمیان تجربات، تجارتی معلومات، تربیت، لاجسٹک طریقہ کار اور کاروباری روابط کے تبادلے کے لیے فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ تاہم کسی ایسے انتظام کا حقیقی تجارتی اثر جہاز رانی کی باقاعدہ سروس، کارگو حجم، کسٹمز سہولت، زمینی رابطوں اور نجی شعبے کی شرکت پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو فوری طور پر بڑے تجارتی حجم کی ضمانت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

پاکستان اپنی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ تجارت، خصوصاً وسط ایشیا اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عمان کے ساتھ مجوزہ گوادر-صحار تعاون اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آئندہ مرحلے میں دونوں ممالک کے متعلقہ بندرگاہی اور سرکاری اداروں کے درمیان عملی شرائط، شپنگ انتظامات اور تجارتی سہولتوں کی تفصیلات طے ہونا اہم ہوگا۔