کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 993.91 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کمی کے ساتھ 172,642.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران مارکیٹ میں اس سے کہیں زیادہ تیز گراوٹ بھی دیکھی گئی اور دوپہر کے وقت انڈیکس گزشتہ بندش کے مقابلے میں 1,900 سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا تھا۔
دستیاب مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس دوپہر 1 بج کر 39 منٹ پر 1,904.31 پوائنٹس یا 1.10 فیصد کمی کے ساتھ 171,731.76 پوائنٹس پر تھا، جبکہ گزشتہ بندش 173,636.07 پوائنٹس رہی تھی۔ دن کی کم ترین سطح تقریباً 171,490.63 پوائنٹس ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد خریداری آنے سے انڈیکس نے نقصان کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا۔
اے کے ڈی سکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف نے مارکیٹ کے رجحان کو امریکا اور ایران کے درمیان طویل ہوتی کشیدگی اور تیل کی بڑھتی قیمتوں سے منسلک کیا۔ ان کے مطابق علاقائی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان کے نسبتاً مضبوط میکرو اکنامک اشاریے اور حالیہ بین الاقوامی یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی پالیسی سازوں کو ماضی کے بعض جھٹکوں کے مقابلے میں کچھ سہارا فراہم کرتی ہے۔ یہ تجزیہ مارکیٹ ماہر کی رائے ہے، نہ کہ کسی یقینی مستقبل کے رجحان کی ضمانت۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ حملوں اور توانائی تنصیبات سے متعلق خدشات کے ساتھ عالمی خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ برینٹ خام تیل منگل کو 99.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 94.60 ڈالر فی بیرل تک گیا۔ تیل درآمد کرنے والے ملک پاکستان کے لیے عالمی خام تیل کی قیمت میں تیزی درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں سے متعلق توقعات پر اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے سرمایہ کار توانائی منڈی کی حرکت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ پہلے ہی ہفتے کے آغاز میں دباؤ کا شکار تھی اور پیر کو انڈیکس 1,692.74 پوائنٹس کم ہو کر 173,636.08 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ منگل کی تجارت میں بھی علاقائی کشیدگی، عالمی تیل اور منافع کے حصول کی سرگرمیوں نے اتار چڑھاؤ بڑھایا۔ ایک روز کی گراوٹ کو طویل مدتی مارکیٹ سمت کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم موجودہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی خطرات نے قلیل مدت میں سرمایہ کاروں کے رویے پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔




