کراچی: پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ادارے کی حفاظت میں معاون ڈیفنس سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی 30 ستمبر کو طے شدہ واپسی موجودہ افرادی قلت کے باعث سکیورٹی مسائل بڑھا سکتی ہے۔ یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے پاکستان اسٹیل ملز میں ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں ادارے کے مالی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری معلومات کے مطابق اسٹیل ملز حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت تقریباً 190 سکیورٹی گارڈز دستیاب ہیں اور ان میں سے متعدد کو پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ چوری کے مسلسل واقعات اور محدود سکیورٹی نفری کے درمیان ڈیفنس سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی مکمل واپسی سے اثاثوں کی حفاظت کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے تجویز دی کہ ڈی ایس ایف اہلکاروں کی واپسی ایک ہی مرحلے میں کرنے کے بجائے مرحلہ وار کی جائے، تاکہ ادارے کو اپنی سکیورٹی صلاحیت مضبوط کرنے اور اضافی سکیورٹی خدمات آؤٹ سورس کرنے کا عمل مکمل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ ذیلی کمیٹی نے بھی متعلقہ مالی حکام سے کہا کہ ضروری سکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی میں ادارے کو سہولت فراہم کی جائے۔

کمیٹی کے ارکان نے اسٹیل ملز میں چوری کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سینیٹر دنیش کمار نے مبینہ چوریوں میں بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے باوجود کم سزا کی شرح پر سوال اٹھایا اور تحقیقات و استغاثہ کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر خالدہ اطیب نے چوری کے مسئلے کو محض الگ تھلگ واقعات کے بجائے ایک دیرینہ اور منظم مسئلہ قرار دیتے ہوئے ادارہ جاتی خامیوں اور جواب دہی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ ارکان کے مشاہدات اور بیانات ہیں؛ ان سے کسی مخصوص فرد یا گروہ کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔

ذیلی کمیٹی کو تقریباً 290 ایکڑ اسٹیل ملز اراضی پر تجاوزات کے معاملے سے بھی آگاہ کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر تین یونین کونسلیں قائم ہو چکی ہیں۔ اجلاس میں مالی واجبات، افرادی قوت کی کمی، ملازمین کے بقایا جات اور دیگر انتظامی مسائل بھی زیر غور آئے۔ کمیٹی نے انتظامیہ کو سوالات کی فہرست دے کر آئندہ اجلاس میں تفصیلی جواب پیش کرنے کی ہدایت کی۔ فوری مسئلہ 30 ستمبر سے پہلے ایسا سکیورٹی انتظام تیار کرنا ہے جو ڈی ایس ایف کی واپسی کے بعد ادارے کے وسیع اثاثوں اور اراضی کی حفاظت کر سکے۔