مسقط: پاکستان اور عمان کے حکام نے پاکستانی نوجوانوں اور ہنرمند کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے، مہارتوں کی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان لیبر موبیلٹی مضبوط بنانے پر بات چیت کی ہے۔ یہ گفتگو مسقط میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور عمان کی وزارت محنت کے انڈر سیکریٹری خالد بن سالم الغماری کے درمیان ملاقات میں ہوئی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی وفد نے عمانی حکام کو بتایا کہ پاکستان بیرون ملک روزگار کی منڈیوں میں زیادہ طلب رکھنے والی مہارتوں کی نشاندہی کر رہا ہے تاکہ مقامی تربیتی پروگراموں کو منزل ممالک کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد تربیت یافتہ افراد اور دستیاب بیرون ملک ملازمتوں کے درمیان مہارتوں کے فرق کو کم کرنا ہے۔
رانا مشہود احمد خان نے امید ظاہر کی کہ عمان پاکستانی ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔ عمانی انڈر سیکریٹری نے بھی دونوں ممالک کے درمیان لیبر موبیلٹی، مہارتوں کی ترقی اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں کسی مخصوص تعداد میں نئی ملازمتوں، ویزوں یا بھرتیوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس پیش رفت کو فوری روزگار کوٹے یا نئی بھرتی اسکیم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ موجودہ گفتگو پالیسی اور ادارہ جاتی تعاون کی سطح پر ہے، جبکہ عملی مواقع متعلقہ عمانی قواعد، آجر کی طلب اور پاکستان میں بھرتی کے قانونی طریقہ کار کے مطابق سامنے آئیں گے۔
پاکستان کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار بیرونی افرادی قوت کی منڈی کا اہم حصہ ہے۔ ہنر کی طلب کے مطابق تربیت، سرٹیفکیشن اور قانونی لیبر موبیلٹی کے بہتر انتظام سے پاکستانی کارکنوں کی مسابقت بڑھ سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کی حالیہ ملاقات اسی سمت میں رابطے کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، تاہم آئندہ عملی نتائج کا اندازہ باضابطہ پروگراموں، معاہدوں اور بھرتیوں کے اعلانات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

