ارومچی: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 2026 ڈیجیٹل اکانومی فورم میں اپنا نیا ڈیجیٹل روڈمیپ پیش کیا ہے، جسے حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ وژن کے تحت 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے طویل مدتی ہدف سے جوڑا گیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے 15 ستمبر کو چین کے شہر ارومچی میں فورم سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کاری، براڈبینڈ، ٹیکنالوجی برآمدات، ڈیجیٹل مصنوعات اور خواتین کی آن لائن شمولیت سے متعلق حکومتی اعداد اور اہداف بیان کیے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 150 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور گزشتہ دو برس میں ڈیٹا استعمال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ فائبر آپٹک کنکشنز کی تعداد تین ملین سے بڑھ کر پانچ ملین سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ فوری حکومتی ہدف تیز رفتار وائرڈ براڈبینڈ کو 10 ملین گھروں تک پہنچانا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی IT اور ICT برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ حکمت عملی روایتی IT خدمات کی برآمد تک محدود رہنے کے بجائے اپنی ٹیک مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی manufacturing تیار کرنے پر مرکوز ہوگی۔ یہ نکات حکومتی پالیسی سمت اور اہداف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ ان کے مستقبل کے معاشی نتائج ابھی حاصل شدہ نتائج نہیں ہیں۔
احسن اقبال نے خواتین کی موبائل انٹرنیٹ رسائی کے اعداد بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق خواتین میں mobile internet usage 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہوا، جبکہ مجموعی digital gender divide 35 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا۔ یہ اعداد سرکاری خطاب میں بیان کیے گئے ہیں اور حکومت نے انہیں inclusive digital transition کی پیش رفت کے طور پر پیش کیا۔
Express Tribune کے مطابق وزیر نے SCO رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی مندوبین کے سامنے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو وسیع اقتصادی تبدیلی کے ایک اہم محرک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ حکومت کا 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف پہلے بھی اڑان پاکستان کے طویل مدتی فریم ورک کا حصہ رہا ہے، تاہم ارومچی فورم کی نئی پیش رفت یہ ہے کہ اس ہدف کے ساتھ مخصوص ڈیجیٹل رابطہ، فائبر، exports اور product-led technology strategy کو ایک مربوط روڈمیپ کی شکل میں پیش کیا گیا۔
ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا 2035 کا ہدف سرکاری aspiration ہے، کوئی آزادانہ یا یقینی معاشی forecast نہیں۔ اس کے حصول کا انحصار سرمایہ کاری، productivity، برآمدی نمو، بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل، پالیسی تسلسل اور عالمی معاشی حالات سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔ اسی لیے موجودہ اعلان کو measurable digital milestones کے ساتھ حکومتی منصوبہ اور سمت سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ مستقبل کی GDP سطح کی ضمانت۔
SCO فورم میں پاکستان کی شرکت کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تعاون، انفراسٹرکچر اور نئی ٹیکنالوجیز پر پالیسی مکالمے میں حصہ لینا بھی تھا۔ سرکاری بیان میں نئے روڈمیپ کے نمایاں قابل پیمائش عناصر میں 150 ملین سے زائد digital users، پانچ ملین سے زیادہ fibre connections، 10 ملین household broadband target اور 4.6 ارب ڈالر IT/ICT exports شامل کیے گئے ہیں۔
