اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان پر ایران کی سرکاری بجلی کمپنی تاوانیر کے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر واجب الادا ہیں۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے تحریری جواب میں بتایا کہ ایران سے درآمد ہونے والی بجلی بلوچستان کے جنوب مغربی حصوں، خصوصاً مکران خطے، کو فراہم کی جاتی ہے اور بقایا رقم قسطوں میں ادا کی جا رہی ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی کی فراہمی کا بنیادی معاہدہ نومبر 2002 میں طے پایا تھا۔ اس انتظام کے تحت پاکستان ایران سے زیادہ سے زیادہ 204 میگاواٹ بجلی درآمد کرتا ہے۔ معاہدہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ اور ایران کی تاوانیر کے درمیان ہے، جبکہ قابل اطلاق نرخوں کی منظوری نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی دیتی ہے۔
قومی اسمبلی کو دی گئی معلومات کے مطابق معاہدے میں ہر ماہ 30 ملین کلوواٹ آور بجلی کی خرید یا ادائیگی کی شرط شامل ہے، خواہ اصل استعمال اس مقدار سے کم ہو۔ اس نوعیت کی شرط بجلی کی سرحد پار فراہمی کے طویل مدتی معاہدوں میں سپلائر کو کم از کم آمدنی یقینی بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، تاہم پاکستان کی اصل مالی ذمہ داری معاہدے اور منظور شدہ نرخوں کے مطابق بنتی ہے۔
ایرانی بجلی چار سرحد پار انٹرکنیکشنز کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ان میں کیچ، پنجگور، گوادر، واشک اور چاغی اضلاع کے حصے شامل ہیں، جبکہ تربت، تمپ، گوادر، پسنی، اورماڑہ، ماشکیل اور تفتان سمیت متعدد مقامات اس نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ صارفین کی بلنگ اور وصولی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نیپرا کے منظور شدہ ٹیرف کے مطابق کرتی ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق متعلقہ علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا تعلق مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات سے بھی ہے۔ مکران کو قومی گرڈ سے منسلک کیا جا چکا ہے، لیکن طویل ٹرانسمیشن لائنوں اور وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بجلی کی فراہمی کے معیار میں مسائل برقرار ہیں۔ وولٹیج کے مسئلے کے حل کے لیے STATCOM سمیت ڈائنامک آلات کی تنصیب سے متعلق ایک مطالعہ ستمبر 2027 تک مکمل ہونے کی توقع بتائی گئی ہے۔
ایران کے ساتھ بجلی کا یہ معاہدہ دسمبر 2024 میں ترمیم کے بعد مزید دو سال کے لیے بڑھایا گیا تھا۔ 12 ملین ڈالر کا بتایا گیا عدد موجودہ بقایا ذمہ داری ہے، اسے پورے معاہدے کی مجموعی لاگت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حکومت کے مطابق ادائیگیاں قسطوں میں جاری ہیں، جبکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مستحکم فراہمی کے لیے قومی گرڈ اور سرحد پار درآمد دونوں کے تکنیکی انتظامات اہم رہیں گے۔
