اسلام آباد: ایک پارلیمانی پینل نے ملک میں جعلی اور غیر معیاری کاسمیٹکس کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے نگرانی سخت کرنے اور صارفین کو نقصان دہ مصنوعات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی کے سامنے کاسمیٹکس کی تیاری، درآمد، لیبلنگ، معیار اور مارکیٹ میں نقل شدہ برانڈز کی دستیابی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
اراکین نے نشاندہی کی کہ جعلی کاسمیٹکس صرف برانڈ یا تجارتی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ سے بھی تعلق رکھتا ہے، کیونکہ غیر معیاری اجزا جلد، آنکھوں اور دیگر جسمانی حصوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ غیر رجسٹرڈ یا غیر معلوم ذرائع سے تیار ہونے والی مصنوعات میں استعمال شدہ کیمیکل، بھاری دھاتیں یا آلودگی صارفین کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
کمیٹی نے متعلقہ ریگولیٹری اور معیار جانچنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان میں مختلف مصنوعات کی نگرانی کے اختیارات ایک سے زیادہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں تقسیم ہو سکتے ہیں، جس کے باعث نفاذ میں خلا پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اراکین نے مارکیٹ سرویلنس، نمونوں کی لیبارٹری جانچ اور غیر قانونی مینوفیکچرنگ یا درآمد کے خلاف کارروائی کو زیادہ مربوط بنانے کی بات کی۔
پینل کی سفارشات کو فوری طور پر کسی نئی ملک گیر قانونی پابندی یا سزا کے نفاذ کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ نئی لازمی شرائط یا جرمانوں کے لیے متعلقہ قانون، قواعد یا سرکاری نوٹیفکیشن درکار ہوگا۔ موجودہ کارروائی بنیادی طور پر نگرانی سخت کرنے اور پہلے سے موجود قانونی اختیارات کے بہتر استعمال پر مرکوز ہے۔
کاسمیٹکس مارکیٹ میں آن لائن فروخت اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر معروف مصنوعات کی تشہیر نے ریگولیٹری چیلنج کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ حکام کے لیے یہ ضروری ہے کہ مقامی دکانوں کے ساتھ ای کامرس چینلز اور درآمدی سپلائی چین کی بھی نگرانی کی جائے۔ صارفین کے لیے واضح لیبل، اجزا کی فہرست، مینوفیکچرر کی شناخت اور قابل تصدیق درآمدی معلومات محفوظ خریداری میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
کمیٹی کی ہدایات کے بعد متعلقہ اداروں کی رپورٹنگ اور عملی کارروائی سے واضح ہوگا کہ جعلی کاسمیٹکس کے خلاف کس سطح پر چھاپے، نمونہ ٹیسٹنگ یا قانونی مقدمات شروع کیے جاتے ہیں۔ حتمی مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی مصنوعات قابل شناخت ذرائع سے ہوں اور صحت و معیار کے مقررہ تقاضوں پر پوری اتریں۔

