ڈیرہ غازی خان: وفاقی حکومت ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے موزوں بنانے کے مقصد سے تقریباً 5.5 ارب روپے کی اپ گریڈیشن پر کام کر رہی ہے۔ حکومتی تفصیلات کے مطابق منصوبے کی تکمیل کا ہدف جنوری 2028 رکھا گیا ہے اور اس میں ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے، مسافر سہولیات اور بین الاقوامی آپریشنز کے لیے درکار نظام بہتر بنانا شامل ہوگا۔
ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن جنوبی پنجاب کے ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور قریبی علاقوں کے مسافروں کے لیے اہم ہو سکتی ہے، جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ خلیجی ممالک اور دیگر بیرونی مقامات کا سفر کرتے ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی سفر کے لیے بہت سے مسافروں کو ملتان، لاہور یا دوسرے بڑے ہوائی اڈوں تک زمینی سفر کرنا پڑتا ہے۔
بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کے لیے صرف رن وے یا ٹرمینل کی توسیع کافی نہیں ہوتی۔ ہوائی اڈے کو امیگریشن، کسٹمز، سکیورٹی، سامان کی جانچ، فائر اینڈ ریسکیو معیار، ایئر ٹریفک سہولیات اور ایئرلائن آپریشنز کے لیے مطلوبہ منظوریوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ان ادارہ جاتی اور ریگولیٹری شرائط کی تکمیل عملی پروازوں کے آغاز کا تعین کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بہتر فضائی رابطہ جنوبی پنجاب میں کاروبار، سیاحت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آمدورفت کے لیے سہولت پیدا کر سکتا ہے۔ ڈیرہ غازی خان جغرافیائی طور پر پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کے درمیان رابطے کے قریب واقع ہے، اس لیے بہتر ایئرپورٹ علاقائی نقل و حرکت میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
5.5 ارب روپے کی لاگت موجودہ منصوبہ جاتی تخمینہ ہے اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں تعمیراتی قیمتوں، ڈیزائن میں تبدیلی یا اضافی کام کے باعث حتمی لاگت مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جنوری 2028 تک تکمیل ایک ہدف ہے، جس کا حصول فنڈز کی بروقت فراہمی، ٹھیکوں، تعمیراتی پیش رفت اور تکنیکی منظوریوں پر منحصر ہوگا۔
بین الاقوامی درجہ یا سہولت ملنے کے بعد بھی کسی مخصوص غیر ملکی منزل کے لیے پرواز خودکار طور پر شروع نہیں ہوتی۔ ایئرلائن کو تجارتی طلب، سلاٹ، طیاروں کی دستیابی اور دوطرفہ فضائی حقوق کو دیکھ کر روٹ شروع کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ اعلان کو بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن اور بین الاقوامی آپریشنز کی اہلیت پیدا کرنے کے منصوبے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

