وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 5 ستمبر سے 7 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔ اس تبدیلی کے بعد پیٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

تازہ نظرثانی میں دونوں اہم ایندھنوں کی قیمتیں مخالف سمت میں گئی ہیں۔ پیٹرول صارفین کو فی لیٹر 3.13 روپے کی کمی ملی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور مال برداری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.74 روپے مہنگا ہوا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بالواسطہ طور پر نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر اثر انداز ہو سکتا ہے، تاہم کسی حتمی مہنگائی اثر کا تعین وسیع معاشی عوامل اور آئندہ قیمتوں کی سمت پر منحصر ہوگا۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نرخ محدود مدت، یعنی تین دن کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت نے جولائی میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے لیے زیادہ متواتر نظرثانی کا طریقہ اختیار کیا تھا، جس کے پس منظر میں عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے رسد کے خدشات شامل ہیں۔ اس ماحول میں مقامی قیمتیں عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور دیگر سرکاری محصولات سے متاثر ہوتی ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صارفین کے لیے حتمی قیمت صرف خام تیل یا درآمدی لاگت کا نتیجہ نہیں بلکہ سرکاری محصولات بھی اس میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی بڑھائی ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں اور ترسیلی خطرات میں تیز تبدیلی مقامی نرخوں پر جلد اثر ڈال سکتی ہے۔ 7 ستمبر کے بعد قیمتوں میں کسی مزید تبدیلی کے لیے حکومت یا پٹرولیم ڈویژن کے نئے نوٹیفکیشن کا انتظار ہوگا۔ صارفین اور کاروباری شعبے کے لیے مختصر مدت کی یہ قیمتیں اسی سرکاری مدت تک قابل اطلاق ہیں۔