اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مختصر مدت کے لیے ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر سستا اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 4 ستمبر کو جاری کردہ اعلان کے مطابق نئی قیمتیں 5 ستمبر سے نافذ ہوئیں اور 7 ستمبر 2026 تک مؤثر رہیں گی، جس کے بعد روزانہ جائزے کے نظام کے تحت اگلی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
تازہ فیصلے کے بعد پٹرول کی فی لیٹر قیمت 349 روپے سے کم ہو کر 345 روپے 87 پیسے ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 374 روپے 31 پیسے سے بڑھ کر 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ پٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار ٹرانسپورٹ، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے دونوں مصنوعات کی قیمت میں تبدیلی کے اثرات مختلف صارف گروہوں اور کاروباری شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ نرخ روایتی پندرہ روزہ نظام کے بجائے جولائی 2026 سے اختیار کیے گئے روزانہ قیمتوں کے جائزے کے فریم ورک کے تحت مقرر کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس طریقے میں عالمی خام تیل اور تیار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ، درآمدی اخراجات، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن اور دیگر قابل اطلاق اجزا کو زیادہ قریبی وقفوں سے دیکھا جاتا ہے۔ تاہم صارف کے لیے حتمی قیمت میں سرکاری ٹیکس، لیوی اور تقسیم و فروخت کے مارجن بھی شامل رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پٹرول کی خوردہ قیمت میں ٹیکسوں اور سرکاری محصولات کا مجموعی حصہ تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں تقریباً 100 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ ان اعداد میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، موسمیاتی معاونتی لیوی اور دیگر متعلقہ مدات شامل ہو سکتی ہیں۔ تازہ اعلان میں انفرادی ٹیکس شرحوں میں کسی نئی بنیادی تبدیلی کی الگ تفصیل نہیں دی گئی؛ اصل اعلان صارف کے لیے حتمی خوردہ قیمتوں کے ردوبدل سے متعلق ہے۔
پٹرول کی قیمت میں کمی سے نجی نقل و حرکت کی لاگت میں معمولی ریلیف مل سکتا ہے، لیکن ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مال برداری، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور زرعی پیداوار کی لاگت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے اثرات فوری اور یکساں نہیں ہوتے، کیونکہ کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر منتقلی کا انحصار مارکیٹ، مسافت، ذخیرے اور کاروباری فیصلوں پر ہوتا ہے۔ اس لیے نئی قیمتوں سے کسی مخصوص شے یا کرائے میں لازمی اضافے یا کمی کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
مختصر تین روزہ مدت کی وجہ سے صارفین اور پٹرول پمپس کو آئندہ اعلان پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ حکومت کے مطابق اگلا نرخ عالمی اور مقامی عوامل کے تازہ حساب کی بنیاد پر جاری ہوگا۔ کسی آئندہ قیمت کے بارے میں غیر سرکاری اندازے کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ مجاز اعلان پیٹرولیم ڈویژن یا متعلقہ سرکاری ادارے ہی جاری کرتے ہیں۔
5 ستمبر سے نافذ تصدیق شدہ قیمتیں پٹرول کے لیے 345 روپے 87 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر ہیں۔ یہ نرخ 7 ستمبر تک مقرر کیے گئے ہیں اور ملک بھر میں فروخت ہونے والی متعلقہ مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔




