اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات 10 ستمبر سے ہوگا۔ اضافے کے بعد پیٹرول 367 روپے 75 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔

ڈان کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی جنگ سے رسد کے خدشات کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین بھی زیادہ مختصر وقفوں سے کیا جا رہا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل تقریباً 281 روپے فی لیٹر کی سطح سے تیزی سے مہنگا ہوا تھا۔ اسی طرح پیٹرول اپریل کے اوائل میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچا، جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کی قیمت تقریباً 266 روپے تھی۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے 17 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ عالمی قیمتوں میں شدید تبدیلی کے باعث ایندھن کے نرخ روزانہ بنیاد پر مقرر کیے جائیں گے۔ اس سے قبل مارچ کے آغاز سے حکومت ہفتہ وار قیمتوں کا اعلان کر رہی تھی۔ اوگرا کو عالمی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر یومیہ قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔

پاکستان میں پیٹرول نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست گھریلو ٹرانسپورٹ اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار اور مسافر ٹرانسپورٹ، زرعی و صنعتی سرگرمیوں، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے کے باعث اشیا کی نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر وسیع اثر رکھتا ہے۔