اسلام آباد: حکومت نے 16 ستمبر 2026 کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جاری کردہ نئی شرحوں کے مطابق پٹرول 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہو گیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔
Business Recorder، Geo News اور دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ نرخ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن اور اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت نافذ ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل پٹرول 380 روپے 24 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر تھا۔ نئی تبدیلی کے بعد دونوں مصنوعات کی قیمتیں ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حکومت نے حالیہ عرصے میں روایتی پندرہ روزہ جائزے کی جگہ روزانہ قیمتوں کے نظام کی طرف پیش رفت کی ہے۔ سرکاری فریم ورک کے مطابق روزانہ نرخ طے کرتے وقت بین الاقوامی منڈی کی گزشتہ سات روزہ اوسط کو بنیادی حوالہ بنایا جاتا ہے، جبکہ جمعہ کو جاری ہونے والی قیمت ہفتہ اور اتوار کے لیے برقرار رہ سکتی ہے۔ اوگرا کو روزانہ ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
Business Recorder کے مطابق 16 ستمبر کی تبدیلی مسلسل ساتواں اضافہ تھی، جبکہ یکم ستمبر سے پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 41 روپے 55 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 45 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اعداد اسی عرصے میں جاری ہونے والی یومیہ تبدیلیوں کے مجموعے کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکومت اور خبر رساں اداروں نے قیمتوں میں حالیہ اضافوں کو عالمی خام تیل کی مہنگائی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث سپلائی کے خدشات سے جوڑا ہے۔ پاکستان کی درآمدی توانائی لاگت بین الاقوامی نرخوں اور شپنگ حالات سے متاثر ہوتی ہے، تاہم کسی ایک دن کی مقامی قیمت متعدد عوامل کے مجموعے سے بنتی ہے۔
اسی پس منظر میں حکومت نے کم آمدنی والے موٹر سائیکل، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے الگ ہدفی فیول ریلیف اسکیم بھی منظور کی ہے۔ نئی عام مارکیٹ قیمتیں تمام صارفین کے لیے بنیادی نرخ ہیں، جبکہ سبسڈی اسکیم کے اہل افراد کو مقررہ ماہانہ حد اور رجسٹریشن کی شرائط کے مطابق الگ رعایت ملے گی۔
