اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 16 ستمبر 2026 کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 6 روپے 41 پیسے بڑھا کر 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

یہ نئی قیمتیں حکومت کے اس روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت جاری کی گئی ہیں جس کے تحت عالمی تیل منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کے نرخ باقاعدگی سے دوبارہ مقرر کیے جا رہے ہیں۔ ایک روز قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث ایندھن کی لاگت مسلسل عوام، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم معاشی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

سرکاری ریڈیو نے پٹرولیم ڈویژن کے پریس ریلیز کے حوالے سے نئی قیمتوں کی تصدیق کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومت نے جولائی میں قیمتوں کی نظرثانی کے لیے روزانہ نظام متعارف کرایا تھا، جس کا پس منظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ پاکستان خام تیل اور تیار پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر نمایاں انحصار رکھتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں اور ترسیلی اخراجات میں تبدیلی کا اثر مقامی نرخوں پر منتقل ہوتا ہے۔

حکومت نے کم آمدنی والے بعض صارفین کے لیے الگ فیول ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی ہے۔ سرکاری منصوبے کے مطابق موٹر سائیکل، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی کاروں کے اہل صارفین کو مخصوص ماہانہ حد کے اندر فی لیٹر رعایت دینے کا طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ تاہم عمومی ریٹیل مارکیٹ میں 16 ستمبر کے لیے اعلان کردہ بنیادی قیمتیں 384.34 روپے فی لیٹر پیٹرول اور 415.83 روپے فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل ہی رہیں گی۔

ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کے اثرات صرف نجی سفر تک محدود نہیں رہتے۔ ڈیزل مال بردار ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور کئی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ قیمتوں کے آئندہ تعین کا دارومدار حکومتی نوٹیفکیشن اور عالمی تیل منڈی کی صورتحال پر ہوگا۔