وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 12 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 11 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق تازہ نوٹیفکیشن میں یہ نرخ اگلے دو دن کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 343 روپے 10 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 371 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ تبدیلی اس سے پہلے ہونے والی قیمت ایڈجسٹمنٹ کے بعد آئی ہے، جس میں پیٹرول 39 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دو روپے 40 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا تھا۔ موجودہ خبر صرف نئے دو روزہ نرخ بیان کرتی ہے؛ خام تیل، شرح مبادلہ، ٹیکس یا پیٹرولیم لیوی میں الگ الگ تبدیلی کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن بھی 14 فیصد بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ دی نیشن کے مطابق فی لیٹر ایک روپے 34 پیسے اضافے کے بعد ڈیلرز مارجن آٹھ روپے 64 پیسے سے بڑھ کر نو روپے 98 پیسے ہوگیا۔ یہ مارجن ریٹیل ڈیلرز کے حصے سے متعلق ہے اور صارف کے لیے اعلان کردہ آخری فی لیٹر قیمت میں شامل ہوتا ہے۔

دو روزہ مدت اس لیے اہم ہے کہ صارفین اور کاروبار اسے عام پندرہ روزہ قیمت اعلان نہ سمجھیں۔ دستیاب رپورٹ میں اگلی نظرثانی کی قطعی تاریخ یا یہ وضاحت نہیں دی گئی کہ دو دن بعد یہی نرخ برقرار رہیں گے یا نئی ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔ اگلے سرکاری نوٹیفکیشن سے ہی بعد کی قیمتوں کی تصدیق ممکن ہوگی۔

پیٹرول کی قیمت نجی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور چھوٹے کاروباروں کی آمدورفت کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تعلق مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور کئی صنعتی سرگرمیوں سے ہے۔ تاہم کسی مخصوص چیز کی قیمت میں کتنی تبدیلی آئے گی، اس کا اندازہ صرف ایندھن کے اضافے سے نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ کرایہ، کھپت، معاہدے اور دوسرے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

موجودہ قابلِ تصدیق معلومات نئے فی لیٹر نرخ، اضافے کی مقدار، دو روزہ اطلاق اور ڈیلرز مارجن کی تبدیلی تک محدود ہیں۔ صارفین کو ادائیگی کے وقت پمپ پر درج سرکاری قیمت دیکھنی چاہیے، جبکہ آئندہ نرخوں کے لیے متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشن بنیادی حوالہ ہوگا۔