ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بحال کرنے سے متعلق مذاکرات کی امید کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ڈالر سے زیادہ کم ہو گئی ہیں۔ ایکسپریس اردو نے رائٹرز کے حوالے سے بتایا کہ سرمایہ کار بحری رکاوٹیں کم ہونے اور توانائی کی رسد بہتر ہونے کے امکان کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔
بدھ کے ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل 2 ڈالر 30 سینٹ، یعنی تقریباً 2.6 فیصد کم ہو کر 86.28 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ 13 اگست کے بعد دیکھی گئی کم ترین سطح کے قریب تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2 ڈالر 8 سینٹ یا 2.53 فیصد گر کر 80.29 ڈالر فی بیرل ہوا۔
ایک روز پہلے بھی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں تین فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔ مسلسل دو روز کی گراوٹ کا بنیادی محرک آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کو قرار دیا گیا، کیونکہ راستہ کھلنے کی صورت میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت اور عالمی رسد پر موجود دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ عالمی تیل اور توانائی مصنوعات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے وہاں کشیدگی یا جہاز رانی میں رکاوٹ قیمتوں اور رسد کے خدشات کو تیزی سے بڑھا دیتی ہے۔ حالیہ رکاوٹوں کے دوران یہی خطرہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا تھا۔
موجودہ کمی مذاکرات کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ منڈی ایران اور عمان کی بات چیت، راستے کی عملی دستیابی اور خطے کی فوجی صورتحال دیکھ رہی ہے۔ اگر مذاکرات رک جائیں یا کشیدگی دوبارہ بڑھے تو قیمتیں پھر اوپر جا سکتی ہیں؛ مکمل یا جزوی بحالی ہونے پر رسد کے خدشات مزید کم ہو سکتے ہیں۔
یہ عالمی بینچ مارک قیمتوں کی فوری مارکیٹ حرکت ہے، پاکستان میں پٹرول یا ڈیزل کے سرکاری خوردہ نرخوں میں خودکار تبدیلی نہیں۔ مقامی قیمتیں الگ حکومتی طریقہ کار، ٹیکس، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور اعلان کردہ مؤثر مدت سے طے ہوتی ہیں۔ موجودہ خبر صرف عالمی خام تیل کی بدھ کی ابتدائی تجارت اور اس کے محرک سے متعلق ہے۔




