وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تعطل اور ثالثی کے معاملے کا قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ دی نیشن کے مطابق وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا کہ کمیٹی قانونی، مالی اور توانائی سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
وزیر نے یہ تفصیل سینیٹر طلحہ محمود کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں دی۔ ان کے مطابق حکومت کو ایک طرف پیرس میں جاری ثالثی سے پیدا ہونے والی ممکنہ مالی ذمہ داری دیکھنی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی مستقبل کی گیس اور توانائی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہے۔ کمیٹی کا مقصد انہی عوامل میں توازن پیدا کرنا بتایا گیا۔
رپورٹ میں وزیر پٹرولیم کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران نے اپنی جانب منصوبے پر قابلِ ذکر جسمانی پیش رفت کی ہے اور جنوبی پارس گیس فیلڈ سے گیس کو پاکستان کی سرحد کے قریب ایک بڑے ایرانی شہر تک پہنچایا ہے۔ پاکستان کی جانب منصوبہ طویل عرصے سے رکا ہوا ہے، جس کے باعث قانونی اور مالی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
علی پرویز ملک نے ایران کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی طور پر قابلِ قبول اور دوستانہ حل کے لیے رابطے میں ہے۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ رپورٹ میں کسی حتمی تصفیے، ثالثی کے خاتمے یا پائپ لائن کی تعمیر دوبارہ شروع ہونے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پیرس میں ثالثی کا حوالہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف تعمیراتی تاخیر تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ معاہداتی ذمہ داریوں سے بھی جڑا ہے۔ کمیٹی کو اسی لیے قانونی مؤقف، ممکنہ مالی بوجھ اور طویل مدتی توانائی فائدے کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔ کسی مخصوص رقم یا جرمانے کو رپورٹ میں حتمی نہیں بتایا گیا۔
اگلی اہم پیش رفت کمیٹی کی سفارشات، ایران کے ساتھ مذاکرات کے باضابطہ نتائج اور ثالثی کی قانونی صورتِ حال ہوگی۔ موجودہ اعلان ایک مشاورتی اور پالیسی مرحلہ ہے۔ اسے پائپ لائن کی فوری بحالی، گیس کی ترسیل شروع ہونے یا تنازع مکمل طور پر حل ہونے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔




