وفاقی کابینہ نے پاکستان کی ایندھن سپلائی چین کو بندرگاہ سے پٹرول پمپ تک مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے مارچ 2027 کی مدت مقرر کی ہے۔ دی نیشن کے مطابق مقصد یہ ہے کہ مختلف مراحل میں دستی عمل اور انسانی مداخلت کم کر کے ذخیرے، ترسیل اور فروخت کا مربوط ڈیجیٹل ریکارڈ قائم کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس نے 3 اگست کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو اس منصوبے کی تکمیل کی ہدایت دی تھی۔ اوگرا نے بعد میں ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، تیل ذخیرہ کرنے والی کمپنیوں اور پاک عرب پائپ لائن کمپنی کو الگ الگ اہداف اور مدتیں بتائیں۔

حکمت عملی میں ایک مربوط ہارڈویئر اور سافٹ ویئر پیکیج کی شفاف خریداری شامل ہے جو بندرگاہ سے پمپ تک تمام اہم ڈیٹا پوائنٹس کو جوڑ سکے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ نظام کے کسی مرحلے پر دستی یا انسانی مداخلت نہ ہونے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاہم اس کا عملی نفاذ تکنیکی تنصیب، ڈیٹا انضمام اور نگرانی کے معیار پر منحصر ہوگا۔

تمام متعلقہ کمپنیوں کو 31 دسمبر 2026 تک ڈپوؤں، ریفائنریوں کے خام اور تیار مصنوعات والے ٹینکوں، پائپ لائن سے منسلک ذخائر اور دیگر تیل سہولتوں میں خودکار ٹینک گیجز نصب اور مربوط کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جن آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ای آر پی نظام نہیں، انہیں بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط نظام بنانا ہوگا۔

ریٹیل آؤٹ لیٹس پر خودکار ٹینک گیجز اور نوزل سیل ڈیوائسز کی تنصیب اور انضمام کے لیے 20 مارچ 2027 کی تاریخ بتائی گئی ہے۔ ان آلات سے ذخیرے اور فروخت کے اعداد کا باہمی موازنہ ممکن ہوگا، لیکن رپورٹ میں منصوبے کی مجموعی لاگت یا تمام کمپنیوں کی موجودہ تیاری کی شرح نہیں دی گئی۔

یہ اعلان تکمیل کی ضمانت نہیں بلکہ سرکاری ہدف اور تعمیلی شیڈول ہے۔ اگلا قابلِ پیمائش مرحلہ دسمبر تک ڈپو اور ذخیرہ تنصیبات کی پیش رفت، پھر مارچ تک ریٹیل نیٹ ورک کا انضمام ہوگا۔ منصوبے کی کامیابی کا فیصلہ نصب شدہ آلات، قابلِ اعتماد ڈیٹا اور واقعی کم ہونے والی دستی مداخلت سے کیا جا سکے گا۔