اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دس روپے کے کرنسی نوٹ کی آئندہ طباعت بند کر کے اس کی جگہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی تجویز وفاقی حکومت کو بھیجی ہے۔ دی نیشن کے مطابق مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو اس منصوبے سے آگاہ کیا۔

ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ دس روپے کے نوٹ کی تیاری کی لاگت بڑھ گئی ہے، اس لیے مرکزی بینک نے اسے بند کرنے کی باضابطہ منظوری مانگی۔ یہ ابھی اسٹیٹ بینک کی تجویز ہے؛ وفاقی حکومت کی منظوری اور عملی نفاذ کے بغیر موجودہ دس روپے کے نوٹ کو فوری طور پر غیر مؤثر یا ناقابلِ استعمال نہیں سمجھا جا سکتا۔

اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے مجوزہ ڈیزائن اور جعلی کرنسی کے مسئلے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے نوٹ جعلی کرنسی کا مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں کریں گے، جبکہ ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے جعلی نوٹ زیادہ گردش میں ہونے کی اطلاع دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نئے نوٹوں کا ابتدائی ڈیزائن وزیر خزانہ کی سربراہی والی کمیٹی نے مسترد کیا تھا اور اب سکیورٹی خصوصیات اور ڈیزائن میں تبدیلیاں شامل کی جا رہی ہیں۔ ڈیزائننگ کے لیے پیپرا قواعد کے تحت ٹینڈر ہوا، چار بولیاں آئیں اور ایک مشاورتی فرم کو کام دیا گیا۔ حتمی ڈیزائن پھر بھی وفاقی منظوری کا محتاج ہوگا۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ موجودہ نوٹوں کی طباعت 2005 میں شروع ہوئی تھی اور تمام مالیتوں کو بتدریج نئے نوٹوں سے تبدیل کیا جائے گا۔ اس عمل کے لیے تقریباً ایک سال درکار ہونے کا اندازہ بتایا گیا۔ رپورٹ میں پانچ ہزار روپے کا ایک نوٹ چھاپنے کی لاگت تقریباً چودہ روپے بیان ہوئی، لیکن دس روپے کے نوٹ کی فی اکائی لاگت الگ نہیں دی گئی۔

اس خبر کا عملی نتیجہ فی الحال پالیسی تجویز تک محدود ہے۔ شہریوں کو کسی غیر سرکاری پیغام کی بنیاد پر دس روپے کے نوٹ لینے یا دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اصل تبدیلی اس وقت قابلِ عمل ہوگی جب وفاقی حکومت منظوری دے، اسٹیٹ بینک باضابطہ شیڈول جاری کرے اور نوٹ سے سکے کی منتقلی کے قواعد واضح کیے جائیں۔