سپریم کورٹ نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے خلاف گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے اجتماعی تعین سے متعلق مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا بنیادی فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ ایکسپریس اردو نے سی سی پی کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عدالت نے پی وی ایم اے کو تین کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ مسابقتی کاروباری اداروں کی نمائندہ ایسوسی ایشن کی جانب سے اجتماعی قیمت طے کرنا کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کے دائرے میں ممنوعہ عمل ہے۔ فیصلے کے مطابق ہر کاروباری ادارے کو اپنی لاگت، تجارتی ضرورت اور مارکیٹ حالات کے مطابق قیمت آزادانہ طور پر مقرر کرنی چاہیے۔
معاملہ 2007 سے 2009 کے درمیان وفاقی حکومت اور پی وی ایم اے کی مشاورت سے شروع ہوا تھا، جب حکومت نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ پی وی ایم اے نے مذاکرات کے بعد طے شدہ قیمتوں سے اپنے اراکین کو آگاہ کیا۔ سی سی پی نے اسے اراکین کی طرف سے اجتماعی قیمت بندی قرار دے کر سیکشن 4 کی خلاف ورزی کہا تھا اور ابتدا میں پانچ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا۔
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل نے خلاف ورزی سے متعلق سی سی پی کے مؤقف کی توثیق کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قیمت کا کم ہونا بذات خود اجتماعی طور پر قیمت طے کرنے کے عمل کو قانونی نہیں بناتا۔ عدالت کے مطابق کم قیمتیں عام طور پر آزاد مسابقت کا نتیجہ اور صارفین کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں، لیکن مسابقتی اداروں کی آزاد قیمتوں کی جگہ ایک مشترکہ قیمت آجائے تو مارکیٹ کا مسابقتی عمل متاثر ہوتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ عوامی مفاد کا مقصد اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس بنیاد پر ایسے طریقے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو آزاد قیمت بندی کو محدود کرے۔ فیصلے کی عملی اہمیت یہ ہے کہ حکومت اور تجارتی انجمنوں کے درمیان قیمتوں پر مشاورت بھی کمپٹیشن قانون کے تقاضوں کے اندر رہ کر ہونی چاہیے۔
یہ رپورٹ عدالتی فیصلے اور سی سی پی کے بیان کی تشریح تک محدود ہے۔ جرمانے کی وصولی، کسی مزید نظرثانی کی درخواست یا صنعت پر عملی اثرات سے متعلق نئی پیش رفت الگ باضابطہ ریکارڈ سے واضح ہوگی۔ فی الحال ثابت شدہ نتیجہ خلاف ورزی سے متعلق بنیادی فیصلہ برقرار رہنا اور تین کروڑ روپے جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت ہے۔




