وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 58 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 4 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 364 روپے 35 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تیل منڈی میں رسد کے خدشات قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اسی روز بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں اور شرح مبادلہ میں تبدیلی مقامی ایندھن کی لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت عام صارفین، موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور متعدد تجارتی سرگرمیوں میں وسیع استعمال کے باعث مجموعی لاگت اور مہنگائی کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے نقل و حمل کی لاگت بڑھنے کا دباؤ اشیا کی قیمتوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔
حالیہ اضافہ پیٹرولیم لیوی پر جاری سیاسی بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ سندھ اسمبلی نے بھی 9 ستمبر کو وفاق سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کی۔ تاہم قیمتوں کا نوٹیفکیشن اور صوبائی اسمبلی کی قرارداد دو الگ معاملات ہیں؛ قرارداد خود وفاقی قیمت یا لیوی تبدیل نہیں کرتی۔
آئندہ قیمتوں کا تعین عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس و لیوی پالیسی سے متاثر ہوگا۔ صارفین اور کاروباری حلقوں کے لیے فوری حقیقت یہی ہے کہ نئی مقررہ قیمتوں کے تحت پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی فی لیٹر لاگت بڑھ گئی ہے۔




