اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اکتوبر 2026 سے کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت 390 روپے 23 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی عالمی مارکیٹ میں پلیٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر کی گئی۔
حالیہ ہفتوں میں عالمی تیل منڈی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، بحری راستوں سے متعلق خطرات اور روسی تیل کی ترسیل پر پابندیوں کے امکانات جیسے عوامل سے متاثر رہی ہے۔ پاکستان نے بھی اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ بار تبدیلی کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ عالمی نرخوں کی تیز رفتار تبدیلیوں کو مقامی قیمتوں میں منتقل کیا جا سکے۔
ڈان کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی نجی گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی کا براہ راست اثر شہری اور متوسط آمدنی والے صارفین پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں، جنریٹرز اور بعض صنعتی استعمال میں اہم ہے، جس کی قیمت میں اضافہ مال برداری اور پیداواری اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت نے عالمی تیل کی قیمتوں اور خطے کی کشیدگی کے باعث ایندھن کی بچت کے لیے بعض کفایتی اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ ان میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں کمی اور مارکیٹوں کے اوقات سے متعلق پابندیاں شامل رہی ہیں۔ اس کے ساتھ کم گنجائش والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل صارفین کے لیے ہدفی ریلیف کے اقدامات بھی حکومتی پالیسی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل کی مقامی قیمتیں آنے والے دنوں میں عالمی خام تیل، درآمدی پریمیم، روپے کی قدر اور سپلائی کی صورت حال سے متاثر رہیں گی۔ موجودہ نوٹیفکیشن صرف تازہ ترین نظرثانی کی تصدیق کرتا ہے اور آئندہ قیمتوں کا انحصار مارکیٹ کے نئے اعداد و شمار پر ہوگا۔

