سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے قومی سطح پر زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد کسانوں کو گوداموں، مالیاتی اداروں اور خریداروں کے ساتھ ایک ڈیجیٹل تجارتی نظام کے ذریعے جوڑنا ہے۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس ’مشن 100 بلین ڈالر‘ سے خطاب میں اس مجوزہ فریم ورک کی تفصیلات بیان کیں۔

تجویز کے مطابق زرعی اجناس کی معیاری درجہ بندی، شفاف بولی اور الیکٹرانک ویئرہاؤس رسیدوں کو نظام کا بنیادی حصہ بنایا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ کسان فصل فوری طور پر کم قیمت پر فروخت کرنے کے بجائے منظور شدہ گودام میں محفوظ کر سکیں، ذخیرہ شدہ جنس کی قابل تصدیق رسید حاصل کریں اور اسے مالیاتی سہولت تک رسائی کے لیے استعمال کر سکیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹ کے ذریعے ممکنہ خریداروں کی تعداد بڑھنے سے قیمت کے تعین میں شفافیت بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ایس ای سی پی کی تجویز میں صوبائی اداروں کے زرعی منڈیوں پر موجود ریگولیٹری اختیار کو برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر کمیشن ٹیکنالوجی اور مالیاتی ڈھانچے کی سہولت کاری کرے گا۔ اس تقسیم کی عملی تفصیلات، قانونی تقاضے اور صوبائی حکومتوں کی شمولیت کسی حتمی نفاذ سے پہلے طے ہونا ضروری ہوں گے۔ فی الحال اسے نافذ شدہ قومی مارکیٹ کے بجائے ایک پالیسی تجویز سمجھنا درست ہے۔

پاکستان میں فصل کی کٹائی کے بعد نقصانات، محدود معیاری ذخیرہ گاہیں اور چھوٹے کسانوں کی رسمی قرض تک کم رسائی زرعی معیشت کے دیرینہ مسائل ہیں۔ مجوزہ اسپاٹ مارکیٹ انہی رکاوٹوں کو مارکیٹ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے ذریعے کم کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم اس کے نتائج کا انحصار گوداموں کی دستیابی، معیار کی قابل اعتماد جانچ، کسانوں کی ڈیجیٹل رسائی، بینکوں کی شرکت اور صوبائی ضابطوں کے باہمی ربط پر ہوگا۔

اگر تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو زرعی اجناس کی تجارت میں دستاویزی ریکارڈ بڑھ سکتا ہے اور کسانوں کے لیے مالیاتی مصنوعات کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ ایس ای سی پی اور متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے اس تصور کو قانونی، تکنیکی اور عملی منصوبے میں کیسے تبدیل کرتے ہیں اور اس کے لیے کس سطح کی نجی شعبے کی شراکت حاصل ہوتی ہے۔