عالمی بینک نے پاکستان میں تقریباً 67 کروڑ ڈالر مالیت کے دو اصلاحاتی قرض پروگراموں کی کارکردگی کو 'معتدل طور پر تسلی بخش' قرار دیا ہے، جبکہ ان پروگراموں سے وابستہ مجموعی خطرے کو قابلِ توجہ سطح پر رکھا گیا ہے۔ ڈان کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ان پروگراموں کا مقصد میکرو اکنامک استحکام کو سہارا دینا، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا اور پانچ سال کے عرصے میں ٹیکس وصولیوں کو مجموعی قومی پیداوار کے 15 فیصد تک لے جانے میں مدد دینا ہے۔

یہ جائزہ اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی مالی پالیسی میں ٹیکس نیٹ کی وسعت، محصولات میں اضافہ اور سرکاری اخراجات کی کارکردگی طویل عرصے سے بنیادی اصلاحاتی اہداف رہے ہیں۔ عالمی بینک کی 'معتدل طور پر تسلی بخش' درجہ بندی مکمل کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پروگراموں میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن عمل درآمد، ادارہ جاتی صلاحیت اور پالیسی کے تسلسل سے متعلق خطرات بدستور موجود ہیں۔

قرض پروگراموں کے تحت اصلاحات کا ایک مرکزی ہدف ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانا ہے۔ کم محصولات کی وجہ سے حکومت کے لیے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ پر مستقل اخراجات کی گنجائش محدود رہتی ہے، جبکہ قرضوں اور سود کی ادائیگی مالی وسائل پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ اس پس منظر میں محصولات کی پائیدار بہتری کو میکرو اکنامک استحکام سے براہ راست جوڑا جاتا ہے۔

عالمی بینک کی درجہ بندی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ یہ جاری پروگراموں کی نگرانی کا حصہ ہے۔ آئندہ جائزوں میں اہداف کے حصول، پالیسی اقدامات کے نفاذ اور ادارہ جاتی اصلاحات کی رفتار اہم ہوگی۔ موجودہ رپورٹ سے اتنا واضح ہے کہ بینک نے کچھ پیش رفت تسلیم کی ہے، مگر خطرات اور عمل درآمد کی دشواریاں ختم نہیں ہوئیں اور اصلاحاتی ایجنڈا ابھی جاری ہے۔