اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے مشتبہ سرمایہ کاری اسکیموں اور کمپنیوں کی غیرقانونی مالی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے لیے کارپوریٹ انٹیلی جنس یونٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد شکایت موصول ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خلاف ورزیوں کے اشارے جمع کرنا اور متعلقہ ریگولیٹری شعبوں کو کارروائی کے لیے مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔
نیا یونٹ ان رجسٹرڈ کمپنیوں کی سرگرمیوں پر توجہ دے گا جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ پونزی یا پیرامڈ طرز کی سرمایہ کاری اسکیمیں چلا رہی ہیں، ضروری لائسنس کے بغیر عوام سے رقوم وصول کررہی ہیں، قرض دے رہی ہیں یا اپنے منظورشدہ کاروباری مقاصد سے ہٹ کر سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ محض کسی کمپنی کا نام نگرانی میں آنا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوگا؛ خلاف ورزی کے تعین کے لیے متعلقہ قانونی اور تفتیشی طریقہ کار درکار ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ انٹیلی جنس یونٹ اخباری خبروں، سوشل میڈیا پوسٹس، ڈیجیٹل اشتہارات اور دیگر عوامی طور پر دستیاب معلومات کی نگرانی کرے گا۔ اس سے حاصل ہونے والے ابتدائی اشاروں کی جانچ کے بعد معاملہ کمیشن کے متعلقہ شعبوں کو تحقیقات یا ضابطہ جاتی کارروائی کے لیے بھجوایا جاسکے گا۔ جہاں ضروری ہو، معلومات وفاقی تحقیقاتی ادارے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، اسٹیٹ بینک یا قومی احتساب بیورو سمیت متعلقہ اداروں سے بھی شیئر کی جاسکیں گی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر کے مطابق اس یونٹ کے ذریعے کھلے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو جانچے گئے ریگولیٹری اشاروں میں تبدیل کرکے خطرات کی بنیاد پر نگرانی بہتر بنائی جائے گی۔ اس کا مقصد ابھرتے ہوئے مالیاتی خطرات کا جلد سراغ لگانا، ممکنہ سرمایہ کار نقصان کو محدود کرنا اور کارروائی کے لیے زیادہ مؤثر ترجیحات متعین کرنا ہے۔
یونٹ ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 20 کے تحت چیئرمین سیکریٹریٹ کا حصہ ہوگا۔ نئی منظوری کے بعد اس کی عملی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ مشتبہ معاملات کی تصدیق، متعلقہ شعبوں کو منتقلی اور ضابطہ جاتی اقدامات کس رفتار اور معیار سے انجام پاتے ہیں۔
عوام کے لیے اس اعلان کی اہمیت یہ ہے کہ بظاہر منافع بخش لیکن غیر واضح کاروباری ماڈل رکھنے والی اسکیموں کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص ادارہ جاتی طریقہ کار متعارف کرایا جارہا ہے۔ تاہم اعلان میں کسی مخصوص کمپنی کو مجرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی نئے یونٹ کی جانب سے کسی خاص مقدمے کے حتمی نتیجے کی اطلاع دی گئی ہے۔
