کراچی: پاکستان کی آٹو صنعت میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ ستمبر کا مہینہ نسبتاً کمزور رہا۔ ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق کاروں، ایس یو ویز، پک اپ اور وین کی جولائی تا ستمبر مالی سال 2027 کی فروخت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 19 فیصد بڑھ کر 50 ہزار 480 یونٹس تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس صرف ستمبر میں فروخت 15 ہزار 104 یونٹس رہی، جو سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اور اگست کے مقابلے میں تین فیصد کم تھی۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کی تجزیہ کار ثانیہ عرفان نے ستمبر کی کمزوری کی ایک وجہ ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس پالیسی کے بارے میں تاخیر سے وضاحت کو قرار دیا۔ ان کے مطابق پالیسی کی غیر یقینی صورتحال نے بعض کمپنیوں کی انوائسنگ متاثر کی۔ یہ تجزیہ کار کی وضاحت ہے، تمام کمپنیوں کی جانب سے یکساں تصدیق نہیں۔
انڈس موٹر کمپنی کی ستمبر کی فروخت سالانہ بنیاد پر 31 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 142 یونٹس ہوئی اور رپورٹ کے مطابق بڑی کمپنیوں میں اس مہینے اضافہ دکھانے والی نمایاں کمپنی رہی۔ کمپنی کی پہلی سہ ماہی کی فروخت 13 ہزار 260 یونٹس تک پہنچی۔ دوسری طرف ہونڈا اٹلس کی ستمبر کی فروخت 2 ہزار 128 یونٹس رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹھ فیصد کم تھی۔
پاکستان سوزوکی موٹر کمپنی نے ستمبر میں 4 ہزار 862 گاڑیاں فروخت کیں، جو سالانہ بنیاد پر 46 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود کمپنی کی سہ ماہی فروخت 14 فیصد بڑھ کر 22 ہزار 615 یونٹس رہی۔ ہنڈائی نشاط کی ستمبر کی فروخت 884 یونٹس ریکارڈ ہوئی اور پہلی سہ ماہی میں اس کے اعداد سالانہ بنیاد پر کم رہے۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ مجموعی مارکیٹ میں بہتری کے باوجود ہر کمپنی اور ماڈل کا رجحان یکساں نہیں۔
دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت ستمبر میں دو لاکھ دو ہزار پانچ سو دو یونٹس تک پہنچ گئی، جو رپورٹ کے مطابق ماہانہ ریکارڈ ہے۔ اٹلس ہونڈا نے ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار ایک سو موٹر سائیکلوں کی فروخت کے ساتھ اپنا سابقہ ماہانہ ریکارڈ بھی بہتر بنایا۔ ٹریکٹروں، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بھی سالانہ بنیاد پر اضافہ رپورٹ ہوا۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق خریداروں کی دلچسپی میں بحالی کے آثار ہیں، مگر سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ہچکچاہٹ موجود ہے۔ انہوں نے آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور مکمل تیار گاڑیوں کی درآمدات کے ممکنہ دباؤ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اس طرح سہ ماہی اضافہ صنعت کے لیے مثبت اشارہ ہے، لیکن ستمبر کے اعداد اور پالیسی خدشات اس بحالی کی غیر ہموار نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
