اسلام آباد: پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان نے عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے حکومت سے فوری مالی سہولتوں کے ساتھ طویل مدتی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ تجاویز سیکریٹری تجارت جواد پال کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کی گئیں، جس میں برآمدی شعبے کی مشکلات اور ممکنہ حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صنعتی نمائندوں کا مؤقف تھا کہ پیداواری اخراجات میں اضافہ اور عالمی مقابلہ پاکستانی مصنوعات کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں برآمدی فروخت پر چھ سے آٹھ فیصد تک رعایت کی تجویز دی، جسے برآمدات میں دس فیصد اضافے سے مشروط کرنے کی بات کی گئی۔ یہ صنعت کی پیش کردہ تجویز ہے، حکومت کی منظور شدہ پالیسی نہیں۔
اجلاس میں بجلی کی صنعتی قیمتوں اور کراس سبسڈی پر خاص توجہ دی گئی۔ نمائندوں نے بجلی کے ٹیرف کے حساب میں 56 ارب روپے کے فرق کا معاملہ اٹھایا؛ رپورٹ کے مطابق متعلقہ پاور کمپنی نے اس میں سے 26 ارب روپے کے فرق کو تسلیم کیا۔ معاملہ 16 اکتوبر کو پاور ڈویژن کے ساتھ طے شدہ اجلاس میں زیر بحث لانے کا فیصلہ ہوا۔ وزارت تجارت کو سفارشات وزیراعظم کے سامنے پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔
شرکا نے گیس کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور گیس کے غیر محسوب نقصانات کو صنعتی لاگت میں شامل کرنے پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ اسی طرح ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں شرحوں کے اختلاف، رقوم کی تقسیم اور بعض بینکوں کی جانب سے مقررہ 4.5 فیصد فنانسنگ شرح پر عمل نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ ان نکات پر حتمی حکومتی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔
اجلاس میں وزارت خزانہ، بجلی، پیٹرولیم، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیٹ بینک اور صنعت سے متعلق حکام کے علاوہ مختلف ٹیکسٹائل تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق مسئلہ وار ذیلی کمیٹیوں کو پندرہ دن میں سفارشات دینے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس لیے فی الحال اہم پیش رفت مسائل کی باضابطہ نشاندہی اور ان پر سفارشات مرتب کرنے کا عمل ہے، نہ کہ برآمد کنندگان کی تمام تجاویز کی منظوری۔
