وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے 71 پیسے کمی کی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق بدھ 14 اکتوبر 2026 سے پیٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین پیسے فی لیٹر کی معمولی کمی کے بعد نئی قیمت 396 روپے 82 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ یہ اعلان منگل کو کیا گیا اور نئی شرحوں کے نفاذ کی تاریخ الگ سے واضح کی گئی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ردوبدل کے باوجود حکومت کی جانب سے عائد ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مجموعی سطح بلند ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے کے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کیے جا رہے ہیں۔ صارفین کے لیے اصل قابل ادائیگی قیمت میں عالمی منڈی کے ساتھ ان حکومتی محصولات کا بھی کردار ہوتا ہے۔ نئی قیمتوں کے اعلان میں ڈیزل پر کمی انتہائی محدود رہی، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں نسبتاً زیادہ کمی کی گئی۔
رواں سال توانائی کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور بعد میں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق تین اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ اسی تاریخ کو پیٹرول 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح پر تھا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور عالمی رسد سے متعلق خدشات کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اہم پس منظر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
حکومت نے مہنگے ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے مختلف کفایت شعاری اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ان میں مارکیٹوں کے رات نو بجے بند ہونے کی شرط اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص مقدار میں تین ماہ کے لیے پچاس فیصد کمی شامل ہے۔ ایسے اقدامات کا مقصد ایندھن کے استعمال کو محدود کرنا بتایا گیا ہے، تاہم مختلف کاروباری شعبوں اور شہریوں پر ان کے اثرات کا الگ جائزہ درکار ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر میں موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے امدادی اسکیم کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جولائی میں بتایا تھا کہ بین الاقوامی قیمتوں میں تیز تبدیلی کے باعث ملک میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس ذمہ داری میں اوگرا کا کردار ہوگا۔ تازہ کمی کو اسی بدلتے ہوئے قیمتوں کے نظام اور عالمی توانائی بحران کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین کو ادائیگی کے لیے 14 اکتوبر سے نافذ سرکاری قیمتوں کو بنیاد بنانا چاہیے۔
