اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے دستیاب فنانسنگ کو 2028 تک 11 کھرب روپے سے بڑھا کر 22 کھرب روپے کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ڈان کی 13 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے 12 اکتوبر کو اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ ہدایات دیں۔ یہ مستقبل کا ہدف ہے، اب تک تقسیم کیے گئے نئے قرضوں کی تصدیق شدہ رقم نہیں۔

وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق حکومت چھوٹے کاروباروں کو اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار کا اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سمیڈا میں اصلاحات کے ذریعے نئے کاروبار شروع کرنے اور موجودہ کاروباروں کو وسعت دینے والوں کے لیے تربیت اور بینک قرضوں تک رسائی آسان بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر پسماندہ علاقوں کے شہریوں تک سہولتیں پہنچانے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قرض حاصل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں عام لوگوں کی رہنمائی کے لیے جامع منصوبہ بنایا جائے۔ مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے قابل عمل امکانات جانچنے کے لیے ماہرین کی مدد سے فزیبلٹی اسٹڈیز تیار کرنے اور انہیں مقامی زبانوں میں دستیاب کرانے کی بھی ہدایت دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کی معلومات تک رسائی بڑھانا ہے جنہیں انگریزی میں تیار کردہ کاروباری مواد سے فائدہ اٹھانے میں مشکل ہوتی ہے۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ سمیڈا کے دفاتر مختلف علاقوں میں قائم کیے جا رہے ہیں اور مقامی زبانوں میں رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیلپ لائن تیار ہو رہی ہے۔ سمیڈا کے ڈیجیٹل پورٹل کو زیادہ قابل استعمال بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ یہ منصوبے زیر تکمیل اصلاحات ہیں؛ تمام سہولتوں کے ملک بھر میں مکمل طور پر فعال ہونے کی تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

حکام کے مطابق عالمی ای کامرس ادارے علی بابا اور سمیڈا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں، جس کے تحت دو برس میں دس ہزار چھوٹے کاروباروں کو تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس تعاون کا اعلان چھوٹے کاروباروں کو نئی منڈیوں اور ڈیجیٹل تجارت سے متعارف کرانے کی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا۔

ایک الگ اجلاس میں وزیراعظم نے اسلام آباد کے دانش آئی ٹی پارک کو مؤثر بنانے، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک اور منصوبے کے تیسرے فریق سے آڈٹ کی ہدایت بھی دی۔ تاہم چھوٹے کاروباروں کے لیے فنانسنگ کا بنیادی فیصلہ سمیڈا سے متعلق اجلاس میں سامنے آیا۔ اس ہدف کے حصول کا انحصار بینکوں کی شرکت، کاروباری رہنمائی کی عملی فراہمی اور آنے والے برسوں میں مالی سہولتوں کے حقیقی استعمال پر ہوگا۔