کوئٹہ: پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی آمدورفت کے ایک اہم علاقائی راستے پر ایران ایئر کی پروازیں عارضی تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ کوئٹہ اور ایرانی شہر زاہدان کے درمیان سروس کی بحالی سے بلوچستان اور ایران کے سرحدی علاقوں کے تاجروں، کاروباری نمائندوں اور عام مسافروں کو براہ راست سفر کا راستہ دوبارہ میسر آیا ہے۔
ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 15 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق ایران ایئر کی پرواز نمبر آئی آر اے 0827 زاہدان سے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی اور بعد میں واپس روانہ ہوئی۔ واپسی کی پرواز میں تقریباً 80 مسافروں کے سفر کی اطلاع دی گئی ہے۔ رپورٹس میں پرواز کے دن کی تفصیل یکساں نہیں، تاہم دونوں نے اکتوبر کے وسط میں سروس بحال ہونے کی تصدیق کی ہے۔
کوئٹہ ایئرپورٹ پر زاہدان چیمبر آف کامرس کے آنے والے نمائندوں کا مقامی کاروباری شخصیات اور ہوائی اڈے کے حکام نے استقبال کیا۔ ڈان کے مطابق استقبال کرنے والوں میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر جنگیان دشتی بلوچ، سابق صدور محمد ایوب مریانی اور جمعہ خان بادیزئی اور ایئرپورٹ کے جنرل منیجر خالد کاکڑ شامل تھے۔ یہ رابطے دونوں طرف کی کاروباری برادریوں کی جانب سے فضائی سروس میں دلچسپی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کوئٹہ سے زاہدان اور مشہد کے لیے فضائی راستوں کا آغاز دسمبر 2025 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد خطے کی بین الاقوامی صورت حال کے باعث یہ سروس کچھ عرصہ معطل رہی۔ تازہ پیش رفت میں زاہدان سے کوئٹہ پرواز کی آمد اور واپسی کی خبر سامنے آئی ہے۔ مشہد کے روٹ کے بارے میں بھی بحالی کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن دستیاب رپورٹ میں اس کی ہر پرواز کا الگ شیڈول فراہم نہیں کیا گیا۔
کاروباری حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ فضائی رابطہ بحال ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کی آمدورفت آسان ہو گی۔ زمینی راستوں کے ساتھ فضائی سفر کی سہولت خاص طور پر ان مسافروں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جو کاروباری ملاقاتوں یا ضروری سفر کے لیے دونوں شہروں کے درمیان آتے جاتے ہیں۔ تاہم تجارت میں کسی مخصوص مقدار کے اضافے یا سفری لاگت میں یقینی کمی کا دعویٰ دستیاب خبروں میں نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان کے راستے تجارتی اور عوامی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ ایسے میں باقاعدہ فضائی سروس کا تسلسل مسافروں کے اعتماد اور مستقبل کی کاروباری منصوبہ بندی کے لیے اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود پروازوں کی آئندہ تعداد، کرایوں اور مستقل شیڈول کی تصدیق متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے کے اعلانات سے کرنا ضروری ہوگی۔
تازہ خبر کا بنیادی نکتہ ایک معطل فضائی راستے پر پروازوں کا دوبارہ آغاز ہے، نہ کہ کسی نئے تجارتی معاہدے یا دونوں حکومتوں کے درمیان کسی مخصوص معاشی ہدف کی منظوری۔ مقامی کاروباری برادری نے بحالی کو مثبت قدم قرار دیا ہے جبکہ اس کے دیرپا اثرات کا اندازہ سروس کے تسلسل اور مسافروں کی حقیقی آمدورفت سے ہوگا۔

