اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان میں سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور ٹیکس نظام کی اصلاح کے پروگرام پر عمل درآمد کو معتدل اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ منصوبوں کو سیاسی، انتظامی اور معاشی نوعیت کے قابل ذکر خطرات درپیش ہیں۔ روزنامہ ڈان کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی تازہ عوامی دستاویزات میں وفاقی اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ پنجاب میں ڈیجیٹل خدمات کے ایک الگ منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

بینک کے مطابق پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ، یعنی پی آر آئی ڈی، کے کثیر مرحلہ پروگرام کے لیے مجموعی مالیاتی فریم ورک 700 ملین ڈالر ہے۔ اس منصوبے کا ایک مرکزی مقصد ٹیکس وصولیوں اور مجموعی قومی پیداوار کا تناسب جون 2025 کی 12.3 فیصد سطح سے بڑھا کر جون 2030 تک 15 فیصد کرنا ہے۔ اس ہدف کے حصول کا انحصار صرف محصولات بڑھانے پر نہیں بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی اور اخراجات کے معیار میں بہتری پر بھی ہے۔

بینک نے اصلاحاتی عمل میں متعدد اشاریوں پر پیش رفت کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ حکام تکنیکی معاونت اور انتظامی بندوبست کو فعال بنانے پر کام کررہے ہیں۔ تاہم اس نے سیاسی اور حکمرانی سے متعلق خطرات کو بلند سطح پر رکھا، جبکہ معاشی حالات، ادارہ جاتی استعداد، مالیاتی نگرانی اور ماحولیاتی و سماجی معیارات سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے۔ یہ درجہ بندی پروگرام کے مکمل یا ناکام ہونے کا اعلان نہیں بلکہ موجودہ نفاذ اور ممکنہ رکاوٹوں کا جائزہ ہے۔

رپورٹ میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی گورننگ کونسل کی تشکیل اور چیف شماریات دان کی تقرری میں تاخیر کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ عالمی بینک کے مطابق اس منصب کا خالی رہنا پروگرام کی شرائط کے حوالے سے مسئلہ ہے۔ بینک نے متعلقہ حکام کو اس معاملے کی نشان دہی کی ہے اور اصلاحاتی اقدامات کے لیے ضروری منظوریوں میں تاخیر کم کرنے پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب 70 ملین ڈالر کے کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کو بھی خطرات کے لحاظ سے معتدل سے نمایاں درجے میں رکھا گیا۔ یہ منصوبہ براڈ بینڈ رسائی، ڈیجیٹل سرکاری خدمات، مصنوعی ذہانت کی تیاری اور نقدی کے بغیر لین دین کے فروغ سے متعلق ہے۔ عالمی بینک نے صوبائی حکومت کی اعلیٰ سطح پر وابستگی کو مثبت پہلو قرار دیا، تاہم ڈیٹا گورننس، ذاتی معلومات کے تحفظ، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے انتظامات مزید آگے بڑھانے کی ضرورت واضح کی۔

عالمی بینک کی اس تشخیص سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحات میں پیش رفت کے باوجود ادارہ جاتی تقرریاں، مسلسل سیاسی حمایت اور شفاف عمل درآمد فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ بینک کی جانب سے درج خطرات مستقبل میں نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، تاہم دستیاب رپورٹ کسی نئے قرض کی قطعی منظوری یا کسی پروگرام کی منسوخی کا اعلان نہیں کرتی۔