اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 22 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ جائزے کا نظام اختیار کر چکی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ اور متعلقہ مالی اجزا میں تبدیلیوں کو زیادہ تیزی سے مقامی نرخوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ایک ہی دن میں مختلف مصنوعات کی سمت الگ ہو سکتی ہے، جیسا کہ تازہ فیصلے میں پیٹرول سستا اور ہائی اسپیڈ ڈیزل قدرے مہنگا ہوا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی کا براہِ راست تعلق موٹر سائیکل، رکشہ اور نجی گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کے روزمرہ اخراجات سے ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے حوالے سے کاروباری حلقوں کے لیے اہم رہتا ہے۔ تاہم کسی ایک روز کی تبدیلی سے مہنگائی کے مجموعی رجحان کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آئندہ نرخ عالمی تیل، کرنسی اور حکومتی ٹیکس و لیوی کے اجزا سے متاثر ہوتے رہیں گے۔
حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں کے نظام کا مقصد عالمی اور مقامی منڈی کے فرق کو نسبتاً جلد ایڈجسٹ کرنا بتایا گیا ہے۔ صارفین کے لیے اس نظام کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایندھن کی قیمتیں پہلے کے نسبت زیادہ وقفے وقفے سے تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے پٹرول پمپ پر قابلِ اطلاق سرکاری نرخ کی تازہ اطلاع اہم ہو گئی ہے۔ تازہ نوٹیفکیشن میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کے الگ الگ نرخ واضح کیے گئے ہیں اور یہی قیمتیں اگلے سرکاری جائزے تک قابلِ عمل رہیں گی۔
