کراچی: پاکستان میں بجلی کی طلب اگست 2026 کے دوران سالانہ بنیاد پر 5.1 فیصد بڑھ کر 14,943 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ ارِف حبیب لمیٹڈ کے پاور سیکٹر تجزیے کے مطابق یہ سطح گزشتہ سات برس کی اگست کی اوسط سے 1.4 فیصد زیادہ تھی، تاہم اگست 2021 میں ریکارڈ ہونے والے 16,176 میگاواٹ کے بلند ترین سطح سے اب بھی کم ہے۔
رپورٹ میں طلب میں اضافے کی چند بڑی وجوہ کم بجلی نرخ، صنعتی صارفین کا دوبارہ قومی گرڈ کی جانب آنا، صنعت اور زراعت کے لیے اضافی کھپت کے ترغیبی پیکیجز اور عمومی معاشی سرگرمی میں بہتری بتائی گئی ہیں۔ جولائی 2026 میں بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار میں بھی سالانہ بنیاد پر تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا، جسے بجلی کے استعمال میں بہتری کے پس منظر میں ایک متعلقہ اشارہ قرار دیا گیا ہے۔
اگست میں مجموعی بجلی پیداوار ریگولیٹری حوالہ سطح سے زیادہ رہی، لیکن پیداواری لاگت میں نمایاں دباؤ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق ایڈجسٹ شدہ فیول لاگت 8.83 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ رہی، جبکہ حوالہ لاگت 7.10 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ تھی۔ اسی فرق کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اگست کے لیے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دی، جس کی سطح تقریباً 1.73 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ بتائی گئی ہے۔
ایندھن کے مکس میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ ایل این جی پر مبنی بجلی پیداوار سالانہ بنیاد پر 51.7 فیصد کم ہو کر 1,052 گیگاواٹ گھنٹہ رہی، جس کی بڑی وجہ جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کے دوران ایل این جی درآمدات میں کمی تھی۔ دوسری جانب فرنس آئل سے بجلی پیداوار ماہانہ بنیاد پر 49 فیصد بڑھ کر 321 گیگاواٹ گھنٹہ ہو گئی، جبکہ پن بجلی اور کوئلے سے پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایل این جی کی محدود دستیابی اور عالمی توانائی قیمتوں نے ایندھن کی لاگت پر مزید اثر ڈالا۔ رپورٹ میں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 45.93 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ بتائی گئی، جو بلند تاریخی سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس لیے بجلی کی طلب اور پیداوار میں بہتری کے باوجود صارف نرخوں پر دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
تازہ اعداد و شمار پاور سیکٹر میں کھپت کی بحالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن طلب میں اضافہ بذات خود کم بجلی قیمتوں کی ضمانت نہیں ہے۔ آنے والے مہینوں میں صارفین پر اثر کا انحصار ایندھن کی بین الاقوامی قیمتوں، ایل این جی دستیابی، ہائیڈل پیداوار اور نیپرا کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق فیصلوں پر ہوگا۔
