اسلام آباد: حکومت پاکستان نے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور نجکاری کو اقتصادی حکمت عملی کے اہم ذرائع قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ موجودہ وفاقی پی پی پی پائپ لائن میں تقریباً 6.5 ارب ڈالر مالیت کے 38 منصوبے شامل ہیں۔ یہ تفصیل اسلام آباد میں نیشنل اسٹریٹجک ڈائیلاگ آن پی پی پیز اینڈ پرائیویٹائزیشن اور پاکستان پی پی پی مانیٹر کے اجرا کے موقع پر سامنے آئی۔
نجکاری کمیشن کے سرکاری بیان کے مطابق 38 منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے، ہوا بازی، صحت اور صنعتی انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ محدود سرکاری وسائل کے ماحول میں نجی سرمایہ اور انتظامی مہارت کو انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب میں کہا کہ نجی شعبے کو پاکستان کی اگلی ترقی کی قیادت کرنی چاہیے اور پی پی پیز و نجکاری سرمایہ کاری اور کارکردگی میں بہتری کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ مستقبل کی انفراسٹرکچر ضروریات صرف سرکاری اخراجات سے پوری نہیں کی جا سکتیں اور نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہوگا۔ یہ بیانات حکومتی پالیسی موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق پاکستان میں 1990 کی دہائی سے اب تک 154 پی پی پی منصوبے مالیاتی بندش تک پہنچ چکے ہیں جن کی سرمایہ کاری تقریباً 36 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ حکومت اس کے ساتھ 27 ٹرانزیکشنز پر مشتمل نجکاری پروگرام بھی آگے بڑھا رہی ہے، جس میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں، بڑے ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور مخصوص بینک شامل ہیں۔
پی پی پی پائپ لائن میں کسی منصوبے کی شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ پوری 6.5 ارب ڈالر رقم فوری طور پر سرمایہ کاری کی شکل میں آ چکی ہے۔ ہر منصوبے کے لیے فزیبلٹی، منظوری، بولی، مالیاتی بندوبست اور معاہدوں کے الگ مراحل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح نجکاری پروگرام میں شامل ہر ٹرانزیکشن کی تکمیل مارکیٹ دلچسپی، قیمت، قانونی تقاضوں اور حکومتی منظوریوں پر منحصر ہوگی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ پاکستان پی پی پی مانیٹر کے اجرا کا مقصد منصوبوں کے ریکارڈ اور آئندہ مواقع کی مرئیت بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ اعلان شدہ پائپ لائن میں کتنے منصوبے بروقت مالیاتی بندش اور عملی نفاذ تک پہنچتے ہیں اور ان کے نتیجے میں خدمات، سرمایہ کاری اور سرکاری مالی بوجھ پر کیا اثر پڑتا ہے۔




