اسلام آباد: وفاقی حکومت نجی پاور پلانٹس اور دیگر کمپنیوں کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) براہ راست درآمد کرنے کی اجازت دینے کی ایک تجویز پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد توانائی کی دستیابی بہتر بنانا اور درآمدی ایندھن کا پورا مالی بوجھ سرکاری اداروں پر آنے سے روکنا ہے۔ یہ پیش رفت ابھی تجویز اور غور کے مرحلے میں ہے؛ حکومت کی جانب سے کسی حتمی منظوری یا نافذ شدہ پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

جیو نیوز نے بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے ایل این جی ٹرمینلز کی غیر استعمال شدہ گنجائش کی نیلامی کا دائرہ نمایاں طور پر بڑھانے اور نجی کمپنیوں کو براہ راست کارگو خریدنے کی سہولت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ موجودہ ضابطوں کے تحت اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری میں سرکاری ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کا مرکزی کردار ہے اور نجی خریداروں کے لیے براہ راست درآمد آسان نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دو ایل این جی درآمدی ٹرمینلز مارچ سے بڑی حد تک کم استعمال ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گیس بردار جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نے قطر سے پاکستان کو ملنے والی ایل این جی سپلائی متاثر کی، جبکہ قطر پاکستان کے اہم ترین ایل این جی فراہم کنندگان میں شامل ہے۔ اس صورتحال کے باعث بجلی کی پیداوار اور صنعت کے لیے گیس کی دستیابی پر دباؤ بڑھا اور حکومت کو اسپاٹ مارکیٹ سے نسبتاً مہنگی کارگوز خریدنے کی ضرورت پیش آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بعض اسپاٹ ایل این جی قیمتیں دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس سے سرکاری مالیات پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ نجی درآمد کی اجازت دینے کا ممکنہ مقصد یہ ہوگا کہ توانائی استعمال کرنے والی کمپنیاں اپنی ضرورت کے مطابق خریداری کر سکیں اور ٹرمینلز کی غیر استعمال شدہ صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ، جو ملک کے ایک ایل این جی ٹرمینل کو چلاتی ہے، ماضی میں بھی نجی شعبے کے لیے براہ راست درآمد کی اجازت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ تاہم پالیسی میں کسی تبدیلی کے لیے ضابطہ جاتی، تجارتی اور ٹرمینل رسائی سے متعلق شرائط طے کرنا ضروری ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ایک ڈائریکٹر جنرل نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، اس لیے اس خبر کو منظور شدہ فیصلے کے بجائے زیرِ غور حکومتی تجویز کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔