اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے توانائی کے شعبے میں انتظامی اور فیصلہ سازی کا بڑا کردار نجی شعبے کو دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسابقت، کارکردگی اور سرمایہ کاری میں بہتری جبکہ لاگت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات CEO Summit Islamabad 2026 سے خطاب میں کہی، جہاں انہوں نے توانائی، ٹیکس نظام اور سرکاری ملکیتی اداروں کو ان شعبوں میں شمار کیا جن میں ان کے مطابق اصلاحات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مشیر نے کہا کہ بجلی اور توانائی کی بلند لاگت ملکی صنعتوں کی مسابقت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے کاروبار اور پیداوار کے لیے قابلِ اعتماد، پائیدار اور نسبتاً کم لاگت توانائی کی فراہمی اہم ہے۔ ان کا بیان کسی فوری نجکاری معاہدے یا کسی مخصوص توانائی کمپنی کی فروخت کا اعلان نہیں، بلکہ حکومت کے نجکاری مشیر کی جانب سے شعبے کی سمت اور انتظامی ماڈل کے بارے میں پالیسی مؤقف ہے۔ کسی ادارے کی نجکاری یا مینجمنٹ منتقلی کے لیے الگ قانونی، ریگولیٹری اور لین دین کے مراحل درکار ہوں گے۔

محمد علی نے خطاب میں TRUST کے نام سے ایک اصلاحاتی فریم ورک بھی بیان کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس تصور میں پاکستان کے مسابقتی فائدے رکھنے والے شعبوں کو ہدف بنانا، پائیدار اصلاحات نافذ کرنا، نجی سرمایہ کھولنا، برآمدات کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اور افرادی صلاحیت کو ترقی دینا شامل ہے۔ انہوں نے زراعت، ٹیکسٹائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ان شعبوں میں شامل کیا جن میں پاکستان کے لیے ترقی اور برآمدات بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

توانائی شعبے میں نجی انتظام کے حق میں دلیل یہ ہے کہ تجارتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور آپریشنل فیصلوں میں تیزی سے نقصانات اور لاگت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسی تبدیلیوں کے عملی نتائج ریگولیٹری نگرانی، صارفین کے تحفظ، ٹیرف کے طریقہ کار، مسابقت کی حقیقی سطح اور سرکاری ذمہ داریوں کی واضح تقسیم پر منحصر ہوں گے۔ اس لیے نجی شعبے کی شمولیت کو بذاتِ خود قیمتوں میں فوری کمی یا کارکردگی میں یقینی اضافے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

مشیر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت سرکاری اداروں، توانائی لاگت اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ آئندہ اہم پیش رفت یہ ہوگی کہ TRUST فریم ورک کے نکات کسی باقاعدہ پالیسی، قانون، نجکاری لین دین یا توانائی شعبے کے انتظامی فیصلے میں کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت مشیر کا پالیسی مؤقف اور اصلاحاتی ترجیحات کی وضاحت ہے۔