اسلام آباد میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی فنانسنگ سے متعلق مشاورتی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بینکوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے کہا ہے کہ ایس ایم ای کلسٹرز کو قرض کے حصول میں درپیش رکاوٹوں پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور قابل عمل کاروباروں کے لیے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں ایس ایم ای نمائندوں، کمرشل بینکوں، اسٹیٹ بینک اور متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق کاروباری نمائندوں نے بتایا کہ محدود کریڈٹ، پیچیدہ طریقہ کار اور موزوں فنانسنگ سہولتوں تک دشوار رسائی بہت سے چھوٹے کاروباروں کی توسیع، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات اور نئی مارکیٹ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ مشیر نے مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے عملی تجاویز پر کام کیا جائے اور ایس ایم ای شعبے کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
پاکستان کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، مقامی سپلائی چین اور صنعتی پیداوار میں اہم کردار رکھتے ہیں، تاہم ان میں سے بہت سے کاروبار روایتی بینکاری نظام سے قرض لینے کے لیے درکار ضمانت، دستاویزات اور کریڈٹ ہسٹری کے معیار پورے کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے رسمی بینکنگ کے ذریعے سرمایہ حاصل نہ ہونے پر بعض کاروبار مہنگے غیر رسمی ذرائع یا محدود اندرونی سرمائے پر انحصار کرتے ہیں۔
مشاورتی عمل میں بینکوں کی رسک مینجمنٹ ضروریات اور کاروباری اداروں کی سستے، بروقت سرمائے کی ضرورت کے درمیان قابل عمل توازن بنیادی مسئلہ ہے۔ کریڈٹ گارنٹی، بہتر مالی ریکارڈ، ڈیجیٹل ڈیٹا، کلسٹر پر مبنی قرض ماڈلز اور مالی خواندگی جیسے طریقے اس خلا کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن کسی مخصوص نئی اسکیم یا لازمی قرض ہدف کو اس اجلاس کی بنیاد پر حتمی حکومتی فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک متعلقہ ادارہ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔
اجلاس کا فوری نتیجہ ایس ایم ای فنانسنگ کی مشکلات کو پالیسی اور بینکاری سطح پر اٹھانا اور متعلقہ فریقوں کو حل تلاش کرنے کی ہدایت دینا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ بینک قرض کی شرائط، پراسیسنگ کے وقت اور قابل رسائی مالی مصنوعات میں کیا تبدیلیاں کرتے ہیں اور اسٹیٹ بینک یا حکومت اس سلسلے میں کوئی نئی ریگولیٹری یا ترغیبی سہولت متعارف کراتے ہیں یا نہیں۔

