اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال کے دوران پانچ سے چھ سرکاری اداروں کی نجکاری کے ذریعے ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ رقم حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات 12 اکتوبر کو بینکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی نجکاری کی فہرست میں تقریباً ایک درجن ادارے اور انتظامی معاملات شامل ہیں، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کے انتظامی امور کی آؤٹ سورسنگ جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ یہ آئندہ اقدامات کے اہداف ہیں، مکمل ہونے والے سودوں یا وصول شدہ رقم کی تصدیق نہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ملکی معیشت میں نجی شعبہ مرکزی کردار ادا کرے جبکہ ریاست کاروباری سرگرمیوں کے لیے معاون ماحول فراہم کرے۔ سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تناظر میں اہم سمجھی جاتی ہیں کیونکہ خسارے میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ہر ادارے کی فروخت یا انتظامی تبدیلی کے لیے الگ ضابطہ جاتی اور تجارتی مراحل درکار ہوتے ہیں، اس لیے اعلان کردہ اہداف کو حتمی نتائج نہیں سمجھنا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے معاشی امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو چار فیصد سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ اندازہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی بلند قیمتوں اور علاقائی غیر یقینی صورت حال کے باوجود پیش کیا۔ ان کے مطابق پاکستان ضروری ایندھن کی مناسب مقدار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور زراعت سمیت بعض اہم شعبوں کی کارکردگی برقرار ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی مہنگائی پر نظر رکھنے کی ضرورت تسلیم کی کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیا کی قیمتوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان توانائی کی درآمدات، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات اور بیرونی مالی معاونت کے لیے خلیجی خطے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے خطے میں طویل کشیدگی ملکی ادائیگیوں کے توازن اور قیمتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وزیر خزانہ کا بیان حکومتی توقعات اور اصلاحاتی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے؛ نجکاری سے اصل وصولیوں، معاشی شرح نمو اور مہنگائی کے نتائج کا تعین آنے والے سرکاری اعدادوشمار اور مکمل ہونے والے معاملات سے ہوگا۔
