اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں، جو پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی جگہ فوری طور پر مؤثر ہوں گے۔ نئے فریم ورک میں وفاقی سرکاری خریداری کو زیادہ ڈیجیٹل بنانے، بڑے معاہدوں کی آزادانہ جانچ، مفادات کے ٹکراؤ کو محدود کرنے اور خریداری کے ریکارڈ و فیصلوں کی زیادہ شفاف اشاعت کے لیے کئی نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔

ڈان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹوں کے مطابق نئے قواعد کے تحت وفاقی اداروں کی سرکاری خریداری اور ڈسپوزل کے لیے ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم، یعنی EPADS، کا استعمال بنیادی ذریعہ ہوگا۔ خریداری کرنے والے اداروں کو سالانہ پروکیورمنٹ پلان شائع کرنے، مخصوص حد سے اوپر کے منصوبوں کے اشتہارات جاری کرنے اور معاہدے کے فیصلوں سے متعلق دستاویزات مقررہ طریقہ کار کے تحت عوامی کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پرانے قواعد کے تحت شروع ہونے والے معاملات بدستور 2004 کے فریم ورک کے مطابق مکمل ہوں گے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق 50 کروڑ روپے سے زیادہ اور دو ارب روپے تک کی بعض خریداریوں میں تیسرے فریق کی توثیق شامل ہوگی، جبکہ دو ارب روپے سے زیادہ کے منصوبوں کے لیے بیرونی ارکان کی اکثریت پر مشتمل ایکسٹرنل بِڈ ایویلیوایشن کمیٹی بولیاں کھولنے اور جانچنے کے عمل میں کردار ادا کرے گی۔ قواعد میں بڑے منصوبوں کی بولیاں کھولنے کے عمل کو قومی میڈیا، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے براہ راست نشر کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

نئے قواعد میں پروکیورمنٹ سیلز کے قیام، مارکیٹ تجزیے، بڈنگ دستاویزات کی تیاری، ریکارڈ مینجمنٹ اور کنٹریکٹ ایڈمنسٹریشن کے لیے مخصوص ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔ بدعنوانی یا دھوکا دہی کے معاملات میں بلیک لسٹنگ کی مدت بھی خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق مقرر کی گئی ہے، جبکہ شکایات سننے کے لیے ایسے ارکان پر مشتمل گریوینس کمیٹیوں کا تصور شامل ہے جو متعلقہ خریداری کرنے والے ادارے سے باہر ہوں۔

ڈان نے رپورٹ کیا کہ قواعد ایسے وقت میں نافذ ہوئے ہیں جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا مشن پاکستان کے پروگرام کے جائزے کے لیے حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف ماضی میں بعض سرکاری اداروں کے ساتھ براہ راست کنٹریکٹنگ اور ریاستی اداروں کو ترجیحی سلوک دینے کے پہلوؤں پر تحفظات ظاہر کر چکا ہے۔ تاہم نئے قواعد براہ راست کنٹریکٹنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے اور مخصوص حالات میں سرکاری ملکیتی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی گنجائش برقرار رکھتے ہیں۔

پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق نئے قواعد کا مقصد شفافیت، مسابقت، احتساب، کارکردگی اور سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کو مضبوط بنانا ہے۔ ان مقاصد کے عملی اثرات کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ وفاقی ادارے نئے ڈیجیٹل اور نگرانی کے تقاضوں کو کس حد تک یکساں طور پر نافذ کرتے ہیں اور استثنائی شقوں کو کس طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔