پاکستان میں سرکاری ملازمین کو مصنوعی ذہانت پر مبنی عوامی ٹولز کے استعمال کے دوران حساس اور خفیہ سرکاری معلومات کے تحفظ سے متعلق نئی احتیاطی ہدایات دی گئی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسی معلومات، دستاویزات یا ڈیٹا عوامی اے آئی سروسز میں درج نہ کریں جن کی نوعیت حساس، خفیہ یا ادارہ جاتی طور پر محدود ہو۔ اس ہدایت کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سہولت کے لیے استعمال ہونے والے جنریٹو اے آئی ٹولز کے ذریعے سرکاری معلومات غیر ارادی طور پر بیرونی نظاموں تک نہ پہنچیں۔

جنریٹو اے آئی سروسز متن لکھنے، خلاصہ تیار کرنے، ترجمہ کرنے، کوڈ بنانے اور دستاویزات کا تجزیہ کرنے جیسے کام تیزی سے انجام دیتی ہیں، لیکن کسی بھی بیرونی پلیٹ فارم میں معلومات داخل کرنے سے ڈیٹا گورننس کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں کے لیے یہ مسئلہ زیادہ اہم ہے کیونکہ ان کے پاس شہریوں، پالیسی، سلامتی، مالی معاملات اور داخلی انتظام سے متعلق ایسی معلومات ہو سکتی ہیں جن تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے ہدایت میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر مکمل پابندی کے بجائے حساس ڈیٹا کے تحفظ کو مرکزی اصول بنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اہلکاروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ عوامی اے آئی نظام میں دی جانے والی معلومات ادارے کے براہ راست کنٹرول سے باہر جا سکتی ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز کی ڈیٹا برقرار رکھنے، ماڈل کی تربیت، لاگنگ اور تیسرے فریق تک رسائی کی پالیسیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے سرکاری کام میں استعمال سے پہلے متعلقہ ادارے کی منظور شدہ پالیسی اور سائبر سکیورٹی قواعد کی پابندی ضروری ہے۔

یہ اقدام اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جس میں حکومتیں اور ادارے اے آئی کی پیداواری صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ معلوماتی تحفظ، رازداری اور جواب دہی کے تقاضوں کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری ملازمین کے لیے عملی اصول یہ ہے کہ حساس مواد کو عوامی چیٹ بوٹ یا بیرونی اے آئی سروس میں منتقل نہ کیا جائے اور جہاں اے آئی کا استعمال مجاز ہو وہاں صرف منظور شدہ نظام، کم سے کم ضروری ڈیٹا اور ادارہ جاتی سکیورٹی ضابطے اختیار کیے جائیں۔