دوحہ: پاکستان اور قطر نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ ٹاسک فورس کے تحت فیصلوں پر مؤثر فالو اپ بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق دوحہ میں پاکستان-قطر مشترکہ ٹاسک فورس برائے تجارت و سرمایہ کاری کے دوسرے اجلاس میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے کی۔

اجلاس میں دونوں فریقوں نے ایسے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جہاں عملی سرمایہ کاری اور تجارتی روابط بڑھائے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی وفد نے قطر کو جدید زراعت، اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات، سائلوز، کولڈ اسٹوریج، مربوط کولڈ چین، جدید فارمنگ ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ان شعبوں کا انتخاب پاکستان کی زرعی پیداوار، خوراک کے ذخیرے اور برآمدی سپلائی چین کو جدید بنانے کی ضرورت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

قطری جانب نے شہری ہوا بازی اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی ٹریفک میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ مشترکہ ٹاسک فورس کا مقصد محض عمومی اقتصادی رابطوں تک محدود رہنے کے بجائے سرمایہ کاری کی تجاویز، نجی شعبے کی شمولیت اور متعلقہ اداروں کے درمیان پیش رفت کو باقاعدہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا ہے۔ دونوں ممالک حالیہ مہینوں میں اس فورم کو فعال بنانے اور قابل عمل منصوبوں کی شناخت پر کام کرتے رہے ہیں۔

وزیر تجارت جام کمال خان نے دوحہ میں ورلڈ انویسٹمنٹ فورم کی سربراہ نان لی کولنز سے بھی ملاقات کی۔ اس گفتگو میں علاقائی تعاون میں پاکستان کے کردار اور بدلتے عالمی اقتصادی حالات میں علاقائی معاشی انضمام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری بیان میں کسی ایک نئے سرمایہ کاری معاہدے کی حتمی مالی مالیت یا نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اجلاس کا بنیادی نتیجہ تعاون کے فریم ورک اور ترجیحی شعبوں پر پیش رفت ہے۔

پاکستان کے لیے قطر توانائی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت سمیت متعدد شعبوں میں اہم شراکت دار ہے۔ نئے دور کی اقتصادی شراکت داری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مشترکہ ٹاسک فورس میں زیر بحث تجاویز کو قابل عمل منصوبوں، واضح ٹائم لائنز اور نجی شعبے کے معاہدوں میں کس رفتار سے تبدیل کیا جاتا ہے۔