دوحہ: پاکستان اور قطر نے تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں اہم اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، یعنی ایس آئی ایف سی، کی معاونت سے ہونے والے اس رابطے میں پاکستانی وفد نے قطری سرمایہ کاروں کے سامنے مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع پیش کیے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق قطر میں منعقدہ مشترکہ ٹاسک فورس اجلاس میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اہم اقتصادی شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات ہوئی۔ پاکستانی وفد نے بالخصوص کنیکٹیویٹی منصوبوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، میری ٹائم شعبے اور آٹوموٹیو انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کیے۔
اجلاس کو پاکستان کی اس وسیع کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت خلیجی ممالک سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے اور روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور صنعتی شراکت داری قائم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں اور سہولت کاری کو تیز کرنے کے لیے قائم کیا گیا پلیٹ فارم ہے۔
قطر پاکستان کے لیے توانائی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے حوالے سے اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مائع قدرتی گیس کی فراہمی نمایاں عنصر رہی ہے، تاہم پاکستانی حکام حالیہ برسوں میں سرمایہ کاری کا دائرہ آئی ٹی، بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور صنعت تک بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تازہ اجلاس میں پیش کیے گئے شعبے اسی تنوع کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔
سرکاری رپورٹ میں کسی نئے منصوبے کی حتمی سرمایہ کاری رقم، معاہدے یا تکمیل کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اجلاس کو سرمایہ کاری مواقع کی پیشکش اور ادارہ جاتی مذاکرات میں پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص سرمایہ کاری کے مکمل ہونے کے طور پر۔ اگلا اہم مرحلہ ان شعبوں میں قطری سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو قابل عمل منصوبوں، مالی شرائط اور باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر مشترکہ ٹاسک فورس کی بات چیت سے مخصوص منصوبے آگے بڑھتے ہیں تو ان کی مالی اور تجارتی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے الگ جاری کی جائیں گی۔
